کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں
حدیث نمبر: 3838
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " مَا ذَاكَ؟ " فَقَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " وَقَالَ مَرَّةً: بَعْدَ مَا فَرَغَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَقَالَ: سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ؛ وَهَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ إِلَّا بَعْدَ التَّسْلِيمِ ⦗٤٨٢⦘.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھائیں، آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے یا وہ کون سا اضافہ؟“ عرض کیا گیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے یا فرمایا: فارغ ہونے کے بعد۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث اپنی صحیح میں حضرت ابو ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے اور یہ اس لیے کہ انہوں نے سلام کے بعد ہی ذکر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3839
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " وَمَا ذَاكَ؟ " قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھیں، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: کیا نماز میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں ادا کی ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 3840
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ الْأَعْوَرِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ: كَلَّا، مَا فَعَلْتُ، قَالُوا: بَلَى قَالَ: وَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَقَالَ: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: " لَا " قَالُوا: فَقَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَانْفَتَلَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ عُثْمَانَ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ قَوْلَهُ: " فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " فِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ وَقَدْ رَوَاهُ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ كَمَا كَتَبْتُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں پانچ رکعتیں پڑھائیں، جب انہوں نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا: اے ابوشبل! آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں میں نے تو ایسے نہیں کیا، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں بلکہ آپ نے اسی طرح کیا ہے۔ حضرت ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں لوگوں کے ایک طرف تھا اور میں اس وقت بچہ تھا، میں نے کہا: جناب! آپ نے واقعی پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ وہ بولے: اوئے کالے! تو بھی ایسے ہی کہہ رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! انہوں نے دوبارہ قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ پھر فرمایا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پانچ رکعتیں نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو لوگوں کو تشویش ہوئی، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، آپ ﷺ واپس پھرے اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ”میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“ اس کو حضرت ابن نمیر رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
(ب) یہ جریر کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس کو روایت کیا ہے مگر وہاں الفاظ قدرے مختلف ہیں، وہاں یہ ہے کہ ”جب تم میں سے کوئی بھول جائے تو دو سجدے کرلیا کرے۔“ اس کو حضرت ابن نمیر رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ " ثُمَّ أَقْبَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دن کی کوئی نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے پھرے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں اور جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔“
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ " ⦗٤٨٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَلِكَ أَنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرَ السَّهْوَ بَعْدَ الْكَلَامِ فَسَأَلَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَنَ أَنَّهُ قَدْ سَهَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، ثُمَّ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ ثُمَّ فِي رِوَايَةِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سلام اور کلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ ﷺ کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ ﷺ کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3843
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُجُودَهُ كَانَ بَعْدَ قَوْلِهِ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ " وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ أَوَّلًا ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ، وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ مِثْلُ ذَلِكَ وَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا مِنْ رِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ التَّرْتِيبَ فِي حِكَايَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ ﷺ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں،“ پھر رسول اللہ ﷺ واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔