کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان اقوال کا بیان کہ جب سجدہ کرے تو تکبیر کہے اور جب سر اٹھائے تو تکبیر کہے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام پھیرے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام نہ پھیرے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا " قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں قرآن سناتے تھے، جب آپ ﷺ سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔
(ب) عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ کو یہ حدیث اچھی لگتی تھی۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث اس لیے پسند تھی کہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3772
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1413»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ السَّجْدَةَ فَلَا يَسْجُدْ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى الْآيَةِ كُلِّهَا، فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ " قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ مِثْلَ هَذَا وَيُذْكَرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَرَأْتَ سَجْدَةً فَكَبِّرْ وَاسْجُدْ وَإِذَا رَفَعْتَ فَكَبِّرْ " وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَأَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّهُمَا سَلَّمَا فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمَةً عَنِ الْيَمِينِ، وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَيُذْكَرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ سَجَدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آیتِ سجدہ پڑھے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک مکمل آیت نہ پڑھ لے۔ جب وہ آیت مکمل کرلے تو رفع یدین کرے اور تکبیر کہہ کر سجدہ کرے۔ (ب) فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے سنا، وہ بھی اسی طرح فرما رہے تھے اور ربیع بن صبیح سے بواسطہ حسن بصری رحمہ اللہ نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب تم آیتِ سجدہ پڑھو تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بھی تکبیر کہو۔ (ج) اور حضرت ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ اور ابواحوص رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا جاتا ہے کہ ان دونوں نے سجدہ تلاوت میں صرف دائیں طرف ہی سلام پھیرا۔ (د) بعض نے اس کو ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ کے واسطے سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک مرفوع نقل کیا ہے۔ (ہ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے سجدہ تلاوت کیا اور سلام نہیں پھیرا۔ (و) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت میں سلام نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3773
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»