السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يكبر إذا سجد ويكبر إذا رفع ومن قال يسلم ومن قال لا يسلم باب: ان اقوال کا بیان کہ جب سجدہ کرے تو تکبیر کہے اور جب سر اٹھائے تو تکبیر کہے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام پھیرے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام نہ پھیرے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ السَّجْدَةَ فَلَا يَسْجُدْ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى الْآيَةِ كُلِّهَا، فَإِذَا أَتَى عَلَيْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ " قَالَ: وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ يَقُولُ مِثْلَ هَذَا وَيُذْكَرُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا قَرَأْتَ سَجْدَةً فَكَبِّرْ وَاسْجُدْ وَإِذَا رَفَعْتَ فَكَبِّرْ " وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَأَبِي الْأَحْوَصِ أَنَّهُمَا سَلَّمَا فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمَةً عَنِ الْيَمِينِ، وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَيُذْكَرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ سَجَدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ وَعَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي السَّجْدَةِ تَسْلِيمٌ ".(ا) حضرت عبداللہ بن مسلم بن یسار رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص آیتِ سجدہ پڑھے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرے جب تک مکمل آیت نہ پڑھ لے۔ جب وہ آیت مکمل کرلے تو رفع یدین کرے اور تکبیر کہہ کر سجدہ کرے۔ (ب) فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے سنا، وہ بھی اسی طرح فرما رہے تھے اور ربیع بن صبیح سے بواسطہ حسن بصری رحمہ اللہ نقل کیا جاتا ہے کہ حسن بصری رحمہ اللہ جب آیتِ سجدہ پڑھتے تو تکبیر کہہ کر سجدہ کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی تکبیر کہتے۔ (ج) اور حضرت ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ اور ابواحوص رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا جاتا ہے کہ ان دونوں نے سجدہ تلاوت میں صرف دائیں طرف ہی سلام پھیرا۔ (د) بعض نے اس کو ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ کے واسطے سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک مرفوع نقل کیا ہے۔ (ہ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ انہوں نے سجدہ تلاوت کیا اور سلام نہیں پھیرا۔ (و) حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت میں سلام پھیرنا ضروری نہیں ہے۔