السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يكبر إذا سجد ويكبر إذا رفع ومن قال يسلم ومن قال لا يسلم باب: ان اقوال کا بیان کہ جب سجدہ کرے تو تکبیر کہے اور جب سر اٹھائے تو تکبیر کہے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام پھیرے، اور اس قول کا جس نے کہا کہ سلام نہ پھیرے
حدیث نمبر: 3772
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ الرَّازِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا " قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يُعْجِبُهُ هَذَا الْحَدِيثُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يُعْجِبُهُ لِأَنَّهُ كَبَّرَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں قرآن سناتے تھے، جب آپ ﷺ سجدے والی آیت سے گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔
(ب) عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ کو یہ حدیث اچھی لگتی تھی۔
(ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں یہ حدیث اس لیے پسند تھی کہ اس میں تکبیر کا ذکر ہے۔