کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو اور امام کے ساتھ طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑا ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3680
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 1065»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ وَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ وَلِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار کے ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو کر (باجماعت) نماز ادا نہیں کر سکتا۔ وہ شخص بھاری جسم والا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اپنے گھر بلایا اور آپ کے لیے چٹائی بچھائی اور چٹائی کے کنارے کو جھاڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ آپ ﷺ کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3681
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 639»