السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أطاق أن يصلي منفردا قائما ولم يطقه مع الإمام فصلى قائما منفردا باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو اور امام کے ساتھ طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی
حدیث نمبر: 3680
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑا ہو کر نماز پڑھنا افضل ہے اور بیٹھ کر نماز پڑھنے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے اور لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت آدھا ثواب ملتا ہے۔“