السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من أطاق أن يصلي منفردا قائما ولم يطقه مع الإمام فصلى قائما منفردا باب: اس شخص کا بیان جو اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو اور امام کے ساتھ طاقت نہ رکھتا ہو، تو اس نے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ وَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ وَلِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار کے ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا: میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو کر (باجماعت) نماز ادا نہیں کر سکتا۔ وہ شخص بھاری جسم والا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اپنے گھر بلایا اور آپ کے لیے چٹائی بچھائی اور چٹائی کے کنارے کو جھاڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس پر دو رکعتیں ادا کیں۔ آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اس دن کے علاوہ آپ ﷺ کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔