أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ " لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: جَزَاءً بَدَلَ نَصِيبًا، وَقَالَ: عَنْ شِمَالِهِ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ چھوڑے یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے (بلکہ بائیں طرف بھی مڑے)۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں «نَصِيبًا» کی جگہ «جُزْءًا» ہے اور «عَنْ يَسَارِهِ» کی جگہ «عَنْ شِمَالِهِ» ہے۔
میں نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ رحمہ اللہ کی حدیث میں «نَصِيبًا» کی جگہ «جُزْءًا» ہے اور «عَنْ يَسَارِهِ» کی جگہ «عَنْ شِمَالِهِ» ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ " قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ چھوڑے، یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے بلکہ بائیں طرف بھی مڑے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی ﷺ کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔
(ب) عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی ﷺ کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَنَاعِلًا وَقَائِمًا وَقَاعِدًا وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ننگے پاؤں اور جوتا پہنے ہوئے، کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے، آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے پھرا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِهِ وَمَرَّةً عَنْ يَسَارِهِ وَيَضَعُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى " قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَاجَةٌ فِي نَاحِيَةٍ وَكَانَ يَتَوَجَّهُ مَا شَاءَ أَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ تَوَجُّهُهُ عَنْ يَمِينِهِ؛ لِمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مِنَ التَّيَامُنِ، غَيْرَ مَضَيَّقٍ عَلَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ مَضَى خَبَرُ عَائِشَةَ فِي اسْتِحْبَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَامُنَ فِي شَأْنِهِ كُلِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) قبیصہ بن ہلب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز سے کبھی داہنی جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب اور اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھتے تھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر آپ ﷺ کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہوتی تو جدھر چاہتے پھر جاتے، میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کا پھرنا داہنی طرف ہوتا ہوگا کیونکہ نبی ﷺ داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے جب تک کہ کسی چیز میں کوئی تنگی یا مشکل نہ ہوتی۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی ﷺ ہر اچھے کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اگر آپ ﷺ کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہوتی تو جدھر چاہتے پھر جاتے، میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کا پھرنا داہنی طرف ہوتا ہوگا کیونکہ نبی ﷺ داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے جب تک کہ کسی چیز میں کوئی تنگی یا مشکل نہ ہوتی۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی ﷺ ہر اچھے کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٤٢٠⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، أَخُو أَبِي حَامِدٍ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز سے اپنی داہنی طرف پھرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنِ مَالِكٍ كَيْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّيْتُ عَنْ يَمِينِي، أَوْ عَنْ يَسَارِي؟ فَقَالَ: " أَمَّا أَنَا فَأَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں جب نماز پڑھ لوں تو کس طرف سے پھروں داہنی یا بائیں طرف سے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اکثر داہنی طرف سے ہی پھرتے دیکھا ہے۔