السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: انصراف المصلي باب: نمازی کے واپس پھرنے (مڑنے) کا بیان
حدیث نمبر: 3611
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ نَصِيبًا لِلشَّيْطَانِ مِنْ صَلَاتِهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ " قَالَ عُمَارَةُ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدُ فَرَأَيْتُ مَنَازِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ چھوڑے، یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے بلکہ بائیں طرف بھی مڑے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) عمارہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی ﷺ کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔