کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: مسبوق (جس کی کچھ نماز چھوٹ گئی ہو) وہی کرے جو امام کرتا ہے، پھر جب امام سلام پھیر لے تو کھڑا ہو اور اپنی بقیہ نماز پوری کرے
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے بلایا جائے تو اطمینان و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ، جو پالو وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اسے پورا کرلو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3616
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 602»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي قِصَّةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسْحِهِ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى يَجِدَ النَّاسُ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الْآخِرَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ: " أَحْسَنْتُمْ " أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ، يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوَا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا " قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَالْحَسَنِ الْحُلْوَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عروہ بن مغیرہ بن شعبہ رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ میں گئے۔۔۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے وضو اور موزوں پر مسح کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں: پھر وہ آئے اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس حال میں پایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے آگے کیا تھا۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھائی، رسول اللہ ﷺ نے بھی صرف ایک رکعت پائی تھی۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ دوسری رکعت پڑھی، جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے، مسلمان یہ واقعہ دیکھ کر سہم گئے۔ انہوں نے کثرت سے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا شروع کر دیا، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“ یا فرمایا: ”تم درستگی کو پہنچ گئے ہو“، آپ ﷺ ان پر رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز وقت پر ادا کی۔
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پیچھے کرنے کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو چھوڑ دو“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3617
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 274»
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَذَكَرَ حَالَ الْقِبْلَةِ وَحَالَ الْأَذَانِ فَهَذَانِ حَالِانِ قَالَ: وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَيُشِيرُ إِلَيْهِمْ كَمْ صَلَّى بِالْأَصَابِعِ وَاحِدَةً اثِنْتَيْنِ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مُعَاذٌ يَقْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَكَذَا فَافْعَلُوا " وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَذَلِكَ أَصَحُّ لِأَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں تین تبدیلیاں کی گئیں۔ پھر انہوں نے قبلے اور اذان کی تبدیلی کا ذکر کیا اور فرمایا: یہ دو حالتیں ہیں۔ فرماتے ہیں: لوگ نماز کے لیے آتے اور نبی ﷺ نماز کا کچھ حصہ پڑھ چکے ہوتے تو (کوئی) انگلیوں سے ان کی طرف اشارہ کر دیتا کہ کتنی پڑھی ہے، ایک یا دو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو نبی ﷺ کچھ نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے کہا: میں آپ ﷺ کو جس حالت میں بھی پاؤں گا اسی میں شامل ہو جاؤں گا، پھر (رہ جانے والی نماز) پوری کروں گا۔ چنانچہ وہ نماز میں شامل ہو گئے، جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کی تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ (باقی) نماز پوری کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے، اسی طرح کیا کرو۔“
یہ سند منقطع ہے کیونکہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا، اور شعبہ کی روایت جس میں عبدالرحمن کہتے ہیں: ”ہمارے ساتھیوں نے ہمیں بیان کیا“ زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3618
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مضي تخريجه في الحديث: 1828»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَسَمِعَ خَفْقَ نَعْلَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " أَيُّكُمْ دَخَلَ؟ " قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " وَكَيْفَ وَجَدْتَنَا؟ " قَالَ: سُجُودًا فَسَجَدَتُ قَالَ: " هَكَذَا فَافْعَلُوا إِذَا وَجَدْتُمُوهُ قَائِمًا أَوْ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا أَوْ جَالِسًا فَافْعَلُوا كَمَا تَجِدُونَهُ وَلَا تَعْتَدُّوا بِالسَّجْدَةِ إِذَا لَمْ تُدْرِكُوا الرَّكْعَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
انصار کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے ان کے قدموں کی آہٹ سنی، جب آپ ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا: ”تم میں سے کون نماز میں داخل ہوا ہے؟“ اس شخص نے کہا: میں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے ہمیں کس حالت میں پایا؟“ اس نے کہا: سجدے کی حالت میں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسی طرح کیا کرو، جب تم امام کو کھڑا ہوا، رکوع کرتے، سجدہ کرتے یا بیٹھے ہوئے پاؤ تو اسی طرح کرو جس طرح تم اسے پاؤ، اگر تم نے رکوع نہ پایا ہو تو اس رکعت کو شمار نہ کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3619
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 3373»
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا وَجَدَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى بَعْضَ الصَّلَاةِ صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ مَا أَدْرَكَ، إِنْ قَامَ قَامَ وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ لَا يُخَالِفُهُ فِي شَيْءٍ قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِذَا فَاتَتْكَ الرَّكْعَةُ فَقَدْ فَاتَتْكَ السَّجْدَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب امام کو اس حالت میں پاتے کہ وہ کچھ نماز پڑھ چکا ہوتا تو جو امام کے ساتھ پا لیتے وہ پڑھ لیتے۔ اگر امام کھڑا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے اور اگر امام بیٹھا ہوتا تو بیٹھ جاتے حتیٰ کہ امام اپنی نماز مکمل کر لیتا۔ وہ امام کی مخالفت نہ کرتے بلکہ اس کی پیروی کرتے۔
(ب) سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: جب تم سے رکوع رہ جائے تو تمہاری رکعت فوت ہو گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3620
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 16»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ الْإِمَامَ عَلَى حَالٍ فَاصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ " وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَى هَذَا مَرْفُوعًا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ: ”تو امام کو جس حالت میں پائے، اسی حالت میں ہو جا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3621
درجۂ حدیث محدثین: جيد
تخریج حدیث «جيد۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 26608»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا فَاتَتْهُ رَكْعَةٌ أَوْ شَيْءٌ مِنَ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ فَسَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ وَلَمْ يَنْتَظِرْ قِيَامَ الْإِمَامِ " ⦗٤٢٢⦘ قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرٌ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: " هِيَ السُّنَّةُ " وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَيْضًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت نافع رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جب کوئی رکعت وغیرہ رہ جاتی تو سلام پھیرتے ہی کھڑے ہو جاتے، امام کے قیام کا انتظار نہیں کرتے تھے۔
(ب) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سنت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3622