أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَجِئْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ لِي، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ رَاهَقْتُ الِاحْتِلَامَ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْحِمَارَ يَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ مَعَ النَّاسِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: " قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ يَعْنِي، وَاللهُ أَعْلَمُ، إِلَى غَيْرِ سُتْرَةٍ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ ذَكَرَهَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَرَوَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْهُ فِي الْقَدِيمِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الْمَنَاسِكِ وَفِي الْجَدِيدِ، كَمَا رَوَاهُ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منی میں دیوار وغیرہ کے بغیر نماز پڑھی، اتنے میں میں حاضر ہوا، میں سوار تھا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا، میں صف کے آگے سے گزر گیا اور گدھے کو چرنے پھرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر صف میں داخل ہو گیا، مجھ پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں دوسرے الفاظ سے روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول «إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» ”دیوار کے علاوہ کی طرف“ کا مطلب ہے سترے کے علاوہ کی طرف، واللہ اعلم۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ کتاب المناسک کی حدیث میں مالک بن انس رحمہ اللہ نے ذکر کیے ہیں اور کتاب الصلاۃ میں دوسرے الفاظ سے روایت کیا ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو اپنے پہلے قول میں روایت کیا ہے جیسا کہ اس کو کتاب المناسک میں بھی روایت کیا ہے اور جدید قول میں کتاب الصلاۃ میں ذکر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ " وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ أَصَحَّ مِنْ هَذَا عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَسَيَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھلے میدان میں نماز پڑھی، آپ کے سامنے کوئی چیز نہ تھی۔
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
(ب) اس حدیث کا شاہد اس سے زیادہ صحیح موجود ہے، جو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمُطَّلِبَ بْنَ أَبِي وَدَاعَةَ يَقُولُ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مطلب بن ابو وداعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو بنی سہم کے دروازے کے پاس نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہے تھے، آپ ﷺ کے اور ان لوگوں کے درمیان سترہ نہیں تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: قَالَ ⦗٣٨٨⦘ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ " قَالَ سُفْيَانُ: فَذَهَبْتُ إِلَى كَثِيرٍ فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيكَ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي، عَنْ جَدِّي الْمُطَّلِبِ قَالَ عَلِيٌّ: قَوْلُهُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي شَدِيدٌ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَضْبِطْهُ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ قِيلَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَعْيَانُ بَنِي الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ.
حافظ ثناء اللہ
کثیر بن کثیر رحمہ اللہ اپنے والد سے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کثیر رحمہ اللہ کے پاس جا کر دریافت کیا کہ جو حدیث تم اپنے والد سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ مجھے میرے گھر والوں نے میرے دادا مطلب کے واسطے سے بیان کی تھی۔
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے نزدیک بہت سخت ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: دراصل انہیں یہ یاد ہی نہیں ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ، ابن جریج سے زیادہ حافظے والے ہیں اور ابن جریج اس کو «كَثِيْرٌ عَنْ أَبِيْهِ» ”کثیر اپنے والد سے“ کے طرق سے ہی بیان کرتے ہیں۔
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے نزدیک بہت سخت ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: دراصل انہیں یہ یاد ہی نہیں ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عیینہ، ابن جریج سے زیادہ حافظے والے ہیں اور ابن جریج اس کو «كَثِيْرٌ عَنْ أَبِيْهِ» ”کثیر اپنے والد سے“ کے طرق سے ہی بیان کرتے ہیں۔