کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس قول کا بیان کہ جب نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ " قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ فَمَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَبْيَضِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَسَلْمَ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، فَسَاقَ حَدِيثَ يُونُسَ ثُمَّ أَحَالَ عَلَيْهِ حَدِيثَ الْبَاقِينَ، وَهَذَا مِنْهُ، رَحِمَنَا اللهُ، وَإِيَّاهُ تَجَوُّزٌ فَحَدِيثُ بَعْضِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ میں نے کہا: اے ابوذر! کالے رنگ کی کیا وجہ ہے؟ سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ انہوں نے فرمایا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3483
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 510»
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ " فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَرَأَيْتَ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَبْيَضِ؟ قَالَ: قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْهُ، وَهَكَذَا قَالَهُ عَاصِمٌ ⦗٣٨٩⦘ الْأَحْوَلُ، عَنْ حُمَيْدٍ جَعَلَ أَوَّلَ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ أَبِي ذَرٍّ، ثُمَّ جَعَلَهُ مَرْفُوعًا بِالسُّؤَالِ فِي آخِرِهِ وَأَعْرَضَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ عَنِ الِاحْتِجَاجِ بِرِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، وَاحْتَجَّ بِهَا غَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ وَقَدْ أَشَارَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى تَضْعِيفِ الْحَدِيثِ فِي هَذَا الْبَابِ، وَخِلَافُهُ مَا هُوَ أَثْبَتُ مِنْهُ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ غَيْرَ مَحْفُوظٍ أَوْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِهِ أَنْ يَلْهُوَ بِبَعْضِ مَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقْطَعَهُ عَنِ الِاشْتِغَالِ بِهَا لَا أَنَّهُ يُفْسِدُ الصَّلَاةَ، وَهَذَا الَّذِي حُمِلَ الْحَدِيثُ عَلَيْهِ أَوْلَى بِهِ، فَنَحْنُ نَحْتَجُّ بِمِثْلِ إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَهُ شَوَاهِدُ بَعْضُهَا صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِثْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جب نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں“۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے ابوذر! کالے رنگ کی وجہ ہے، سرخ اور سفید رنگ کے کتے سے نماز کیوں نہیں ٹوٹتی؟ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بھتیجے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی سوال کیا تھا جیسے آپ نے مجھ سے سوال کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”کالا کتا شیطان ہوتا ہے“۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن صامت کی روایت سے دلیل لینے سے اعراض کیا ہے جبکہ دوسرے حفاظ نے اس سے دلیل لی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کے مخالف روایت اس سے زیادہ ثابت ہے۔ یہ غیر محفوظ ہو گی یا اس سے مراد یہ ہو کہ یہ ان کے سامنے سے گزرتے ہیں تو نماز میں غفلت کا سبب بنتے ہیں اور دھیان کو منقطع کر دیتے ہیں نہ کہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے اور اسی پر حدیث کو محمول کرنا بہتر ہے۔
ہم اس حدیث کی اسناد سے دلیل لیتے ہیں اور اس کے بعض شواہد بھی ہیں جو اس کی طرح صحیح الاسناد ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3484
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْأَصَمِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ، وَيَقِي ذَلِكَ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَقِيلَ: عَنْهُ عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقِيلَ: عَنْهُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ كِلَاهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عورت، کتا اور گدھا نماز توڑ دیتے ہیں اور پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز اس کو بچا لیتی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3485
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 511»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، أنبأ أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْكَلْبُ " قَالَ يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ: لَمْ يَرْفَعْ هَذَا الْحَدِيثَ أَحَدٌ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرُ شُعْبَةَ قَالَ يَحْيَى: وَأَنَا أُفَرِّقُهُ قَالَ: وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، يَعْنِي مَوْقُوفًا قَالَ يَحْيَى: وَبَلَغَنِي أَنَّ هَمَّامًا يُدْخِلُ بَيْنَ قَتَادَةَ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبَا الْخَلِيلِ قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ يَرْفَعْ هَمَّامٌ الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالثَّابِتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ لَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَلَكِنْ يُكْرَهُ، وَذَلِكَ يَدُلُّ مِنْ قَوْلِهِ مَعَ قَوْلِهِ يَقْطَعُ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْقَطْعِ غَيْرُ الْإِفْسَادِ، وَيُرْوَى مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بالغہ عورت اور کتا (سامنے سے گزر کر) نماز توڑ دیتے ہیں۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ یہ چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی بلکہ مکروہ ہے اور قطع سے مراد فاسد ہونا نہیں ہے۔
یحییٰ (قطان) فرماتے ہیں: اس حدیث کو قتادہ سے شعبہ کے علاوہ کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، ابن ابی عروبہ اور ہشام نے اسے قتادہ سے موقوف روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3486
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 703»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا الْعَبَّاسُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَحْسَبُهُ أَسْنَدَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ ⦗٣٩٠⦘ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ وَالْيَهُودِيُّ وَالنَّصْرَانِيُّ وَالْمَجُوسِيُّ وَالْخِنْزِيرُ " قَالَ: وَيَكْفِيكَ إِذَا كَانُوا مِنْكَ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ لَمْ يَقْطَعُوا صَلَاتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ انہوں نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع بیان کیا) کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(جب آدمی سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو) کتا، گدھا، بالغہ عورت، یہودی، نصرانی، مجوسی اور خنزیر (سامنے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں اور یہ تم سے ایک کنکر پھینکنے کے فاصلے سے دور ہو کر گزریں تو نماز نہیں ٹوٹے گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3487
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ اخرجه ابوداود 704»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَصْرِيُّ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثنا مُعَاذٌ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى غَيْرِ السُّتْرَةِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ " وَلَمْ يَذْكُرِ النَّصْرَانِيَّ قَالَ: " وَالْمَرْأَةُ " وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَائِضَ قَالَ: " وَيُجْزِي عَنْهُ إِذَا مَرُّوا بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى قَدْرِ رَمْيَةٍ بِحَجَرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص سترے کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو یہ چیزیں اس کی نماز توڑ دیتی ہیں۔“ انہوں نے نصرانی کا ذکر نہیں کیا اور عورت کا ذکر کیا مگر بالغہ کا لفظ ذکر نہیں کیا اور فرمایا: ”البتہ اگر یہ چیزیں ایک پھینکے ہوئے کنکر کے فاصلے سے دور ہو کر گزر جائیں تو نماز نہیں ٹوٹتی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3488
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ: مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ: " اللهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ " فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهِ بَعْدُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن نمران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تبوک کے مقام پر ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہوسکتا تھا، وہ بیان کرتا ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور میں ایک گدھے پر سوار آپ ﷺ کے سامنے سے گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کے پاؤں ضائع کر دے“، اس دن کے بعد میں نہیں چل سکا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3489
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 705»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ سَعِيدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ: " قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدٍ: " قَطَعَ صَلَاتَنَا ".
حافظ ثناء اللہ
سعید رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی، اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3490
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ نَزَلَ بِتَبُوكَ وَهُوَ حَاجٌّ فَإِذَا رَجُلٌ مُقْعَدٌ فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا فَلَا تُحَدِّثْ بِهِ مَا سَمِعْتَ أَنِّي حَيٌّ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِتَبُوكَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ: " هَذِهِ قِبْلَتُنَا " ثُمَّ صَلَّى إِلَيْهَا قَالَ: فَأَقْبَلْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَسْعَى حَتَّى مَرَرْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا فَقَالَ: " قَطَعَ صَلَاتَنَا قَطَعَ اللهُ أَثَرَهُ " فَمَا قُمْتُ عَلَيْهَا إِلَى يَوْمِي هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن غزوان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حج کے ارادے سے نکلے تھے تو تبوک کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، وہاں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا: میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں یہ میری زندگی میں کسی اور کو نہ بتائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مقامِ تبوک پر ایک کھجور کے پاس پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ”یہ ہمارا قبلہ ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی، میں اس وقت بچہ تھا۔ میں دوڑا دوڑا آپ ﷺ اور اس درخت کے درمیان سے گزر گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ہماری نماز توڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے پاؤں توڑ دے“۔ میں اس وقت سے آج تک ان پر کھڑا نہیں ہو سکا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3491
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 707»