السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من صلى إلى غير سترة باب: اس شخص کا بیان جس نے بغیر سترے کے نماز پڑھی
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: قَالَ ⦗٣٨٨⦘ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالنَّاسُ يَمُرُّونَ " قَالَ سُفْيَانُ: فَذَهَبْتُ إِلَى كَثِيرٍ فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيكَ؟ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَهْلِي، عَنْ جَدِّي الْمُطَّلِبِ قَالَ عَلِيٌّ: قَوْلُهُ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَبِي شَدِيدٌ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ لَمْ يَضْبِطْهُ قَالَ الشَّيْخُ وَقَدْ قِيلَ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَعْيَانُ بَنِي الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ.کثیر بن کثیر رحمہ اللہ اپنے والد سے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا اور لوگ آپ ﷺ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے کثیر رحمہ اللہ کے پاس جا کر دریافت کیا کہ جو حدیث تم اپنے والد سے نقل کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے تو یہ حدیث اپنے والد سے نہیں سنی بلکہ مجھے میرے گھر والوں نے میرے دادا مطلب کے واسطے سے بیان کی تھی۔
(ب) علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کثیر کا یہ کہنا کہ میں نے اپنے والد سے نہیں سنی ابن جریج کے خلاف سخت بات ہے۔ ابوسعید عثمان کہتے ہیں: یعنی ابن جریج نے اسے صحیح طور پر یاد نہیں رکھا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن جریج سے یہ بھی منقول ہے کہ کثیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بنو مطلب کے معززین نے مطلب سے بیان کیا، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ محفوظ ہے۔