أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ حُرَيْثًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مَعَهُ عَصًا فَلْيَخْطُطْ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ أَمَامَهُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ وَابْنِ عُيَيْنَةَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے۔ اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی کھڑی کرلے اور اگر اس کے پاس لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر کھینچ لے۔ پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔“
اسی طرح روح بن قاسم اور ابن عیینہ نے ان دو روایتوں میں سے ایک کو اور سفیان ثوری نے اسی روایت کو اسماعیل سے روایت کیا ہے۔
اسی طرح روح بن قاسم اور ابن عیینہ نے ان دو روایتوں میں سے ایک کو اور سفیان ثوری نے اسی روایت کو اسماعیل سے روایت کیا ہے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْفَامِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا ثُمَّ لَا يَضُرُّ مَا مَرَّ أَمَامَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیے۔ اگر کوئی چیز نہ مل سکے تو لکیر ہی کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والی کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔“
وَرَوَاهُ حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ بِشْرٍ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، سَمِعَ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مُخْتَصَرًا، ⦗٣٨٤⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ وَالْحُمَيْدِيِّ وَجَمَاعَةٍ عَنْهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ شَكَّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن اسود نے بھی اس روایت کو اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابوعمرو بن محمد بن حریث بن سلیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے بشر کی حدیث کے الفاظ کے مطابق روایت کیا ہے۔
وہیب اور عبدالوارث نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے ابوعمرو بن حریث سے اور انہوں نے اپنے دادا حریث سے روایت کیا ہے۔ عبدالرزاق نے ابن جریج سے، انہوں نے اسماعیل سے سن کر، انہوں نے حریث بن عمار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ ابن عیینہ نے امام شافعی رحمہ اللہ، حمیدی اور ایک جماعت کی روایت میں اسے اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابومحمد بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے دادا حریث عذری سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، پھر ان (ابن عیینہ) سے یہ بھی منقول ہے کہ انہیں اس میں شک تھا۔
وہیب اور عبدالوارث نے اسے اسماعیل سے، انہوں نے ابوعمرو بن حریث سے اور انہوں نے اپنے دادا حریث سے روایت کیا ہے۔ عبدالرزاق نے ابن جریج سے، انہوں نے اسماعیل سے سن کر، انہوں نے حریث بن عمار سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ ابن عیینہ نے امام شافعی رحمہ اللہ، حمیدی اور ایک جماعت کی روایت میں اسے اسماعیل بن امیہ سے، انہوں نے ابومحمد بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے دادا حریث عذری سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، پھر ان (ابن عیینہ) سے یہ بھی منقول ہے کہ انہیں اس میں شک تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَصَفَ الْخَطَّ فَقَالَ: " هَكَذَا، يَعْنِي عَرْضًا مِثْلَ الْهِلَالِ " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَسَمِعْتُ مُسَدَّدًا يَقُولُ: قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: " الْخَطُّ بِالطُّولِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو لکیر کی کیفیت بیان کرتے سنا، انہوں نے فرمایا: اس طرح، یعنی چوڑائی کے رخ چاند کی گولائی کی طرح۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسدد سے سنا اور انہوں نے ابن داؤد کے حوالے سے بیان کیا کہ لکیر لمبائی کے رخ ہونی چاہیے۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مسدد سے سنا اور انہوں نے ابن داؤد کے حوالے سے بیان کیا کہ لکیر لمبائی کے رخ ہونی چاہیے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ الْحُمَيْدِيَّ عَنِ الْخَطَّ، فَأَوْمَأَ لِي مِثْلَ الْهِلَالِ الْعَظِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
بشر بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حمیدی رحمہ اللہ سے لکیر کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے اشارہ کر کے بتایا یعنی چاند کی شکل جیسی۔