أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ: " مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٨١⦘ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
دوسری سند کے ساتھ اس کی مثل روایت منقول ہے اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن یزید (المقرئ) رحمہ اللہ سے مختصراً روایت ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو الْأَحْوَصِ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً وَأَبُو صَالِحٍ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ وَرَاءَ ذَلِكَ " وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ: " فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِي مَنْ يَمُرُّ وَرَاءَ ذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے تو پھر کسی کا گزرنا نقصان دہ نہ ہوگا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ اپنے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے اور جانور ہمارے سامنے سے گزرتے رہے۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز (بطور سترہ) ہو تو پھر اسے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ: ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پالان کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ کے برابر یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: " مُؤَخِّرَةُ الرَّحْلِ: ذِرَاعٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پالان کی پچھلی لکڑی بازو کے برابر ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا ذَهَبَتِ الرِّكَابُ؟ قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ، أَوْ قَالَ: مُؤَخَّرَتِهِ " ⦗٣٨٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ، وَزَادَ فِيهِ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری چوڑائی میں بٹھاتے۔ پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ میں نے عرض کیا: جب اونٹ چل رہے ہوتے تو آپ کیا کرتے؟ انہوں نے فرمایا کہ پالان کی لکڑی کو سامنے سیدھا رکھتے اور اس کی پچھلی لکڑی کی طرف نماز پڑھتے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں اضافہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى بَعِيرِهِ وَهُوَ مُعْتَرِضٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ " وَقَوْلُهُ: أَفَرَأَيْتَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللهِ لِنَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنے اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے اور وہ آپ ﷺ اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں ہوتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَبُو بَكْرٍ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ: " أَفَرَأَيْتَ " مِنْ كَلَامِ عُبَيْدِ اللهِ لِنَافِعٍ لَا مِنْ كَلَامِ نَافِعٍ لِعَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) دوسری سند سے اسی کے مثل روایت منقول ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں «أَفَرَأَيْتَ» عبیداللہ کا نافع کے لیے کہنا ہو، نہ کہ نافع نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہی ہو، اس وجہ سے کہ ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ اور قاسم بن زکریا رحمہ اللہ دونوں نے مجھے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو اونٹ کو اپنے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں رکھتے تھے۔
(ج) قاسم رحمہ اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: ”جب اونٹ چل رہے ہوتے تو پھر کیا کرتے؟“ انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اپنے اور قبلہ کے درمیان پالان کی پچھلی لکڑی کو رکھ دیتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایسے لگتا ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں «أَفَرَأَيْتَ» عبیداللہ کا نافع کے لیے کہنا ہو، نہ کہ نافع نے یہ بات سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہی ہو، اس وجہ سے کہ ابراہیم بن موسیٰ رحمہ اللہ اور قاسم بن زکریا رحمہ اللہ دونوں نے مجھے خبر دی کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے تو اونٹ کو اپنے اور قبلہ کے درمیان چوڑائی میں رکھتے تھے۔
(ج) قاسم رحمہ اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں: عبیداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: ”جب اونٹ چل رہے ہوتے تو پھر کیا کرتے؟“ انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اپنے اور قبلہ کے درمیان پالان کی پچھلی لکڑی کو رکھ دیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (نماز کے لیے) نکلتے تو برچھی ساتھ لے کر چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ کے سامنے گاڑ دی جاتی، آپ اس کی طرف نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے اور سفر میں بھی آپ ایسا ہی کرتے تھے، امیروں نے اسی وجہ سے برچھی ساتھ رکھنے کی عادت بنائی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ قَالَ: فَجَاءَهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَالَ: فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْتُونَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِلَالٌ الْعَنَزَةَ فَمَشَى بِهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ وَرَكَزَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " قَالَ: وَالظَّعْنُ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ: الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْبَعِيرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَقَالَ: " يَمُرُّ خَلْفَ الْعَنَزَةِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ ".
حافظ ثناء اللہ
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بطحاء میں تھے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ ﷺ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے وضو کے پانی کو لے کر اپنے اوپر مل لیتے، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے برچھی پکڑی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلے اور اس کو اپنے سامنے گاڑ لیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ ﷺ کے سامنے کانسی دار لکڑی تھی اور اس کی دوسری طرف سے عورت، گدھے اور اونٹ گزرتے رہے۔
(ب) شعبہ نے یہ روایت عون سے ان کے والد کے واسطہ سے نقل کی ہے کہ برچھی کے پیچھے سے عورت اور گدھا (وغیرہ) گزرتے رہے۔
(ب) شعبہ نے یہ روایت عون سے ان کے والد کے واسطہ سے نقل کی ہے کہ برچھی کے پیچھے سے عورت اور گدھا (وغیرہ) گزرتے رہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا حَرْمَلَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَسْتُرْ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ وَلَوْ بِسَهْمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حرملہ بن عبدالعزیز بن ربیع بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے اپنے والد (ربیع) سے اور انہوں نے اپنے دادا سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص نماز میں سترے کا ضرور خیال رکھے، اگرچہ تیر ہی کیوں نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلَاسٍ النُّمَيْرِيُّ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اسْتَتِرُوا فِي صَلَاتِكُمْ وَلَوْ بِسَهْمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نماز میں سترہ بناؤ، اگرچہ تیر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔“