أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ ضَمْضَمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ”نماز میں بھی دو سیاہ چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو قتل کرنے“ کا حکم دیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ فَجَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ تَعَالَى وَجْهَهُ فَدَخَلَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَامَ إِلَى جَانِبِهِ يُصَلِّي قَالَ: فَجَاءَتْ عَقْرَبٌ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَرَكَتْهُ، وَأَقْبَلَتْ إِلَى عَلِيٍّ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ ضَرَبَهَا بِنَعْلِهِ، فَلَمْ يَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ إِيَّاهَا بَأْسًا ".
حافظ ثناء اللہ
زوجہ رسول ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ انہوں نے جب رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا تو وہ بھی آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اتنے میں ایک بچھو نمودار ہوا اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچا، آپ کو چھوڑ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف آ گیا، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ ماجرا دیکھا تو اسے اپنے جوتے کے ساتھ مار ڈالا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَاكَ الْحَيَّةَ ضَرْبَةٌ بِالسَّوْطِ أَصَبْتَهَا أَمْ أَخْطَأْتَهَا " وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وُقُوعَ الْكِفَايَةِ بِهَا فِي الْإِتْيَانِ بِالْمَأْمُورِ، فَقَدْ أَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا وَأَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا امْتَنَعَتْ بِنَفْسِهَا عِنْدَ الْخَطَأِ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْمَنْعَ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى ضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سانپ کو تیرے کوڑے کی ایک ہی ضرب کافی ہے چاہے تو صحیح نشانے پر لگائے یا خطا ہو جائے۔“
(ب) یہ روایت اگر صحیح ہو تو مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ ایک ضرب سے اس حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے جو حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب خطا کے وقت وہ خود بچ نکلے، اس سے ایک ضرب سے زیادہ ضربیں مارنے کی ممانعت مراد نہیں۔
(ب) یہ روایت اگر صحیح ہو تو مراد، واللہ اعلم، یہ ہے کہ ایک ضرب سے اس حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے جو حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور مطلب، واللہ اعلم، یہ ہے کہ جب خطا کے وقت وہ خود بچ نکلے، اس سے ایک ضرب سے زیادہ ضربیں مارنے کی ممانعت مراد نہیں۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً أَدْنَى مِنَ الثَّانِيَةِ " وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: دُونَ الْأُولَى، وَقَالَ لِدُونِ الثَّانِيَةِ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چھپکلی کو پہلی ہی ضرب میں مار دیا تو اس کے لیے اتنا اتنا اجر ہے اور جس نے اسے دوسری ضرب میں قتل کیا تو اس کو بھی اتنا اتنا اجر ملے گا، پہلی مرتبہ سے کم اور جو تیسری ضرب میں قتل کرے اس کے لیے اتنا اجر ہے یعنی دوسری ضرب میں مارنے سے کم۔“
(ب) خالد کی روایت میں «أُولَىٰ» کا لفظ نہیں ہے، باقی اسی طرح ہے۔
(ب) خالد کی روایت میں «أُولَىٰ» کا لفظ نہیں ہے، باقی اسی طرح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي أَوْ أُخْتِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَمُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چھپکلی کو پہلی ہی ضرب میں مارنے کا ثواب ستر نیکیاں ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: " رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَأَى رِيشَةً وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهَا عَقْرَبٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ نماز میں تھے کہ انہوں نے ایک پَر دیکھا تو اس پر اپنا پاؤں مارا اور کہا: میں نے سمجھا یہ بچھو ہے۔