السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: قتل الحية والعقرب في الصلاة باب: نماز میں سانپ اور بچھو کو مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 3441
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَاكَ الْحَيَّةَ ضَرْبَةٌ بِالسَّوْطِ أَصَبْتَهَا أَمْ أَخْطَأْتَهَا " وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا أَرَادَ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وُقُوعَ الْكِفَايَةِ بِهَا فِي الْإِتْيَانِ بِالْمَأْمُورِ، فَقَدْ أَمَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا وَأَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ إِذَا امْتَنَعَتْ بِنَفْسِهَا عِنْدَ الْخَطَأِ وَلَمْ يُرِدْ بِهِ الْمَنْعَ مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَى ضَرْبَةٍ وَاحِدَةٍ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سانپ کو تیرے کوڑے کی ایک ہی ضرب کافی ہے چاہے تو صحیح نشانے پر لگائے یا خطا ہو جائے۔“
(ب) یہ روایت اگر صحیح ہو تو مراد وہ حکم ہے جو حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب خطا کے وقت وہ اپنے آپ سے روک نہ لے، اس کو ایک ضرب سے زیادہ ضربیں نہ ماری جائیں۔