کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: نمازی کا اپنے آگے سے گزرنے والے کو ہٹانے (روکنے) کا بیان
حدیث نمبر: 3445
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التُّرْكُ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو نہ گزرنے دے اور جہاں تک ممکن ہو اسے روک دے۔ اگر وہ گزرنے پر مصر ہو تو پھر اسے سختی سے منع کرے، وہ تو شیطان ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3445
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 505۔ ابوداود 697»
حدیث نمبر: 3446
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا " ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو سترے کے قریب کھڑا ہو“، پھر سابقہ مفہوم والی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3446
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 698»
حدیث نمبر: 3447
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَصَاحِبٌ لِي نَتَذَاكَرُ حَدِيثًا إِذْ قَالَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ: أَنَا أُحَدِّثُكَ، مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَرَأَيْتُ مِنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ، نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ إِذْ دَخَلَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَ نَحْرَهُ، فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ، فَأَعَادَ فَدَفَعَ فِي نَحِرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الْأُولَى فَمَثُلَ قَائِمًا وَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ زَاحَمَ النَّاسَ فَخَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ قَالَ: وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ: لَهُ مَرْوَانُ: مَا لَكُ وَلِابْنِ أَخِيكَ جَاءَ يَشْتَكِيكَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسَ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن ہلال سے روایت ہے کہ میں اور ایک صاحب ایک حدیث کے بارے میں مذاکرہ کر رہے تھے، اچانک ابوصالح نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنی ہے اور انہیں اس پر عمل کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم سترے کی آڑ میں جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو معیط قبیلے کا ایک شخص آیا اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزرنے لگا تو انہوں نے اس کو پیچھے کیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، اسے کوئی اور جگہ نظر نہ آئی سوائے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے کے، وہ پھر پلٹ کر آیا اور گزرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو مزید سختی سے روکا تو اس نے پہلے کی طرح کوشش کی اور ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، پھر لوگوں کی بھیڑ ہوئی تو وہ نکل گیا۔ اس نے مروان کو شکایت کی (مروان اس وقت مدینہ کا امیر تھا)، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروان کے پاس گئے تو مروان نے کہا: تمہارا اپنے بھتیجے کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ یہ تمہارے بارے میں شکایت لے کر آیا ہے، تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص سترا رکھ کر نماز پڑھے، پھر کوئی شخص (اس کے سامنے سے) گزرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کو گزرنے سے روکے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس کو سختی سے روکے، وہ تو شیطان ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3447
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 487»
حدیث نمبر: 3448
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَنَعَهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ فَنَبَذَهُ فَأَبَى فَدَفَعَ فِي صَدْرِهِ وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ فَإِنْ أَبِي فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ " وَإِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ عَلَى لَفْظِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ مَضْمُومًا إِلَى ذَلِكَ الْإِسْنَادِ وَذَلِكَ مِنْهُ تَجَوُّزٌ إِلَّا أَنَّهُ، رَحِمَهُ اللهُ، أَفْرَدَهُ بِالذِّكْرِ عَلَى لَفْظِهِ فِي كِتَابِ بَدْءِ الْخَلْقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوصالح سے روایت ہے کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ آل ابی معیط کا ایک شخص آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اس کو روکا۔ اس نے رکنے سے انکار کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس کو دھکا دیا تو اس نے انکار کر دیا تو انہوں نے اس کے سینے پر مارا۔ ان دنوں مروان مدینہ کا والی تھا۔ اس شخص نے مروان کو آپ کی شکایت کی تو مروان نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے سامنے سے کوئی گزرے تو اس کو روکے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑے کیونکہ وہ شیطان ہے“ اور میں اس کو روک رہا تھا اور یہ رکنے سے انکاری تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3448
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
حدیث نمبر: 3449
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا الضَّحَاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ دُونَ مَا فِي أَوَّلِهِ مِنَ السُّتْرَةِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) صدقہ بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سترے کی آڑ میں نماز پڑھو اور اپنے سامنے سے کسی کو نہ گزرنے دو، اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑائی کرو کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
(ب) صحیح مسلم میں یہ روایت ہے مگر اس کے شروع میں سترے کا ذکر نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3449
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 506، ابن حبان 2369»
حدیث نمبر: 3450
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَأَرَادَ جَدْيٌ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ مینڈھے کا بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3450
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابو يعلي2422۔ ابوداود 709»
حدیث نمبر: 3451
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةٍ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ لَتَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِيهَا حَتَّى لَصَقَ بَطْنُهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اذاخر (مدینہ کے درمیان ایک مقام) گھاٹی سے اترے، نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ ﷺ نے دیوار کو سترہ بنا کر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ ہم آپ ﷺ کے پیچھے تھے، اتنے میں بکری کا ایک بچہ آیا جو آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ نے اسے روکا حتی کہ آپ ﷺ نے اپنے پیٹ کو دیوار سے لگا دیا، تو وہ آپ کے پیچھے سے گزر گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3451
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 708»