کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
حدیث نمبر: 3359
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " التَّبَسُّمُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَلَكِنِ الْقَرْقَرَةُ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رَفَعَهُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تبسم سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 3360
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الزَّاهِدَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَشْرُ وَلَكِنْ يَقْطَعُهَا الْقَرْقَرَةُ " وَقَدْ رُوِيَ فِي التَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسکرانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن قہقہہ لگانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 3361
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، أنبأ عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ قَالَ: " مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " ⦗٣٥٨⦘ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ حَكَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي الْمَغَازِي وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ فِي مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قِصَّةٍ مَحْكِيَّةٍ عَنْهُ: " مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ " وَيُذْكَرُ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ دورانِ نماز مسکرائے۔ جب آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آ رہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔“
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔