کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
❮
❯
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: " التَّبَسُّمُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَلَكِنِ الْقَرْقَرَةُ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رَفَعَهُ ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تبسم سے نماز نہیں ٹوٹتی بلکہ کھلکھلا کر ہنسنے سے نماز جاتی رہتی ہے۔
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف (صحابی کا قول) ہے، ثابت بن محمد زاہد نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور یہ ان کا وہم ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3359
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 4774»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الزَّاهِدَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَشْرُ وَلَكِنْ يَقْطَعُهَا الْقَرْقَرَةُ " وَقَدْ رُوِيَ فِي التَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ حَدِيثٌ آخَرُ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مسکرانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن قہقہہ لگانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔“
نماز میں مسکرانے کے بارے میں ایک اور حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس جیسی روایات سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3360
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ وقد مضي في الذي قبله»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، أنبأ عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ قَالَ: " مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " ⦗٣٥٨⦘ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ حَكَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي الْمَغَازِي وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ فِي مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قِصَّةٍ مَحْكِيَّةٍ عَنْهُ: " مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ " وَيُذْكَرُ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ دورانِ نماز مسکرائے۔ جب آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آ رہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔“
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔
وازع بن نافع عقیلی جزری پر محدثین نے کلام کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3361
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدا
تخریج حدیث «ضعيف جدا۔ اخرجه ابو يعلي 2060»