کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سجدے کی جگہ پر پھونک مارنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: " أُفْ أُفْ " ثُمَّ قَالَ: " رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ " فَفَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدِ امَّحَصَتِ الشَّمْسُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا نَفْخًا يُشْبِهُ الْغَطِيطَ، وَذَلِكَ لَمَّا عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ تَعْذِيبِ بَعْضِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْعَذَابُ، فَلَيْسَ غَيْرُهُ فِي التَّأْفِيفِ فِي الصَّلَاةِ كَهُوَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا لَمْ يَكُنْ كَهُوَ فِي رُؤْيَةِ مَا رَأَى مِنْ تَعْذِيبِهِمْ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءٍ فَقَالَ: " وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَلَمْ يَذْكُرِ التَّأْفِيفَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ النَّفْخَ دُونَ التَّأْفِيفِ وَزَعَمَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ قَوْلَهُ أُفْ لَا يَكُونُ كَلَامًا حَتَّى يُشَدِّدَ الْفَاءَ فَتَكُونَ ثَلَاثَةَ أَحْرُفٍ مِنَ التَّأْفِيفِ قَالَ: وَالنَّافِخُ لَا يُخْرِجُ الْفَاءَ فِي نَفْخِهِ مُشَدَّدَةً وَلَا يَكَادُ يُخْرِجَهَا فَاءً صَادِقَةً مِنْ مَخْرَجِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر انہوں نے نبی ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا کہ پھر آپ ﷺ نے آخری سجدوں کے بعد پھونک ماری اور فرمایا: «أُفٍّ أُفٍّ» ”اُف اُف“، پھر فرمایا: ”اے میرے پروردگار! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں ان میں ہوں، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟ کیا آپ نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟“ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ ہو؛ اس لیے کہ اس وقت آپ کے سامنے ایسے مناظر لائے گئے جن میں عذاب دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ نماز میں کسی کے لیے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کہنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان کہ آپ ﷺ ایسے نہیں کہ خواب میں ہوں اور آپ نے ان کے عذاب کو دیکھا ہو۔“
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ ﷺ رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ ہو؛ اس لیے کہ اس وقت آپ کے سامنے ایسے مناظر لائے گئے جن میں عذاب دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ نماز میں کسی کے لیے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کہنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان کہ آپ ﷺ ایسے نہیں کہ خواب میں ہوں اور آپ نے ان کے عذاب کو دیکھا ہو۔“
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ ﷺ رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ذُو قَرَابَةٍ لَهَا شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَيَنْفُخُ، فَقَالَتْ: يَا بُنِيَّ لَا تَنْفُخُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ: " أَيْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ " كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ نَحْوُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا کوئی قریبی رشتہ دار آیا، اس کے ساتھ اس کا نوجوان بیٹا تھا جس کی پیشانی کے بال گھنے تھے، وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! پھونکیں مت مار، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا: ”اے نوجوان! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ)۔“
حدیث نمبر: 3364
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَلَامًا يَعْنِي النَّفْخَ فِي الصَّلَاةِ ⦗٣٥٩⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَالنَّفْخُ لَا يَكُونُ كَلَامًا إِلَّا إِذَا بَانَ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ، وَأَمَّا إِذَا لَمْ يُفْهَمْ مِنْهُ كَلَامٌ لَهُ هِجَاءٌ فَلَا يَكُونُ كَلَامًا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ڈرتے تھے کہ ایسا کلام نہ کریں یعنی نماز میں پھونک مارنا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صرف پھونک کلام نہیں ہوتی البتہ اس سے کوئی ایسا کلام ظاہر ہو جس سے لفظ بنتا ہو۔ اگر اس سے کوئی بات سمجھ نہ آرہی ہو تو وہ کلام نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 3365
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا سَلَمَةُ الْأَبْرَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ قَالَ: قُلْتُ لِقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْكِلَابِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نَتَأَذَّى بِرِيشِ الْحَمَامِ فِي مَسْجِدِ الْحَرَامِ إِذَا سَجَدْنَا، فَقَالَ: " انْفُخُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ایمن بن نابل بیان کرتے ہیں کہ میں نے قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم مسجد حرام میں جب سجدہ کرتے ہیں تو حمام کے بالوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: پھونک مار لیا کرو۔