کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں رویا لیکن اس کی آواز سے کوئی ایسی بات ظاہر نہ ہوئی جس کے حروف تہجی بنتے ہوں
حدیث نمبر: 3354
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو (قراءت) نہ سنا پائیں گے۔ آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو کہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو کثرتِ گریہ کے سبب لوگوں کو قراءت نہ سنا سکیں گے، آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمائیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو یوسف علیہ السلام کی عورتوں کی طرح ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ تو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھے تم سے کوئی خیر نہیں پہنچی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3354
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 633»
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَعَاوَدَتْهُ مِثْلَ مَقَالَتِهَا فَقَالَ: " أَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حمزہ بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کی بیماری میں شدت آ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرات نہ سنا سکیں گے۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”ابوبکر سے کہیے وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ انہوں نے پھر اسی طرح بات کی جیسے پہلے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم یوسف علیہ السلام کی عورتوں جیسی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“
(ب) صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل والے ہیں، جب قرآن پڑھتے ہیں تو اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3355
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ثنا ⦗٣٥٧⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الرَّحَا مِنَ الْبُكَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
مطرف اپنے والد عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ کے رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے چکی چلنے جیسی آواز آرہی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3356
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 904»
حدیث نمبر: 3357
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلِجَوْفِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے آخر میں ہے کہ آپ ﷺ کے پیٹ سے ہنڈیا کے ابلنے کی طرح آواز آتی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3357
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله۔ النساء 1214»
حدیث نمبر: 3358
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ فِي الْعَتَمَةِ بِسُورَةِ يُوسُفَ وَأَنَا فِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ يُوسُفَ سَمِعْتُ نَشِيجَهُ فِي مُؤَخَّرِ الصَّفِّ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز میں سورہ یوسف پڑھ رہے تھے اور میں آخری صفوں میں کھڑا تھا۔ جب وہ یوسف علیہ السلام کے ذکر پر پہنچے تو میں نے آخری صف میں آپ کے سینے سے رونے کے دوران نکلنے والی آواز سنی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3358
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 2703»