السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما تصلي فيه المرأة من الثياب باب: عورت کن کپڑوں میں نماز پڑھے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3252
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبُ الْقَاضِي ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " شِبْرٌ " قَالَتْ: إِذَا تَخْرُجُ سُوقُهُنَّ أَوْ قَالَتْ: أَقْدَامُهُنَّ " قَالَ: " فَذِرَاعٌ وَلَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنے کپڑے کو نیچے لٹکا کر گھسٹ کر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کل قیامت کے روز اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ہاتھ۔“ انہوں نے کہا: تب تو پنڈلیاں نکل جاتی ہیں یا کہا کہ ان کے قدم نکل جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ذراع تک کر لیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔“