کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نماز کے وقت کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور اسے ضائع کرنے والے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3161
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ}.
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ ”پس ان نمازیوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔“ [سورة الماعون: 4-5]
حدیث نمبر: 3161
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ زُبَيْدٍ الْأَيَامِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: " {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللهِ " لَاهُونَ " قَالَ: " السَّهْوُ عَنْهَا: تَرْكُ وَقْتِهَا " ⦗٣٠٤⦘ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ خَلَفُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آیت ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قراءت میں «سَاهُونَ» کی جگہ «لَاهُونَ» ہے، فرماتے ہیں: «سَاهُونَ» اور «لَاهُونَ» کا مطلب ہے نماز کو بھول جانا اور اس کے وقت کا خیال نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 3162
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا عَاصِمٌ هُوَ ابْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] هُوَ الَّذِي يُحَدِّثُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ فِي الصَّلَاةِ، وَقَالَ: " لَا وَأَيُّنَا لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِي الصَّلَاةِ وَلَكِنَّ السَّهْوَ تَرْكُ الصَّلَاةِ، عَنْ وَقْتِهَا " وَقَدْ أَسْنَدَهُ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابا جان! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] ”وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں“ کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم میں سے کون ہے جو نماز میں اپنے آپ سے باتیں نہ کرتا ہو؟ (یعنی خیالات کو قابو رکھ سکتا ہو؟) لیکن «سَاهُونَ» میں سہو سے مراد نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 3163
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَهْرَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ قَوْلِهِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] قَالَ: " هُمُ الَّذِينَ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ﴾ [سورة الماعون: 5] کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 3164
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ {الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} [الماعون: ٥] قَالَ: " إِضَاعَةُ الْوَقْتِ " وَهَذَا الْحَدِيثُ إِنَّمَا يَصِحُّ مَوْقُوفًا وَعِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ بن ابراہیم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ﴿الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴾ [سورة الماعون: 5] ”ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو نماز سے غفلت برتتے ہیں“ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد وقت کا ضائع کر دینا ہے۔“
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحُسَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا " قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي " ⦗٣٠٥⦘ هَكَذَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ولید بن عیزار بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: ”کون سا کام اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا کام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر میں اور پوچھتا تو آپ ﷺ اور زیادہ بیان کرتے۔
حدیث نمبر: 3166
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ مُطَرِّفٍ، ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِي قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللهُ مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَوَاتِهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " لَيْسَ فِي حَدِيثِ آدَمَ ذِكْرُ الْوِتْرِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ اور عبداللہ صنابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو محمد کا خیال یہ ہے کہ وتر واجب ہیں۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انہیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انہیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“
حدیث نمبر: 3167
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ الْجَوْسَقَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَلِيسٍ لِمِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي تَأْخِيرُهُمُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، وَتَعْجِيلُهُمُ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ خوف ہے وہ نماز کو اس کے وقت سے پہلے اور مؤخر کرکے پڑھنا۔“
حدیث نمبر: 3168
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَحْمَدُ قَالَ: ثنا الْأَشْعَثِيُّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا أَدْرِي أَيْشْ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا يُعْرَفُ حَالُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ مَضَتِ الْأَخْبَارُ فِي الْمَوَاقِيتِ، وَفِيهَا كِفَايَةٌ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ الْأَشْعَثِيِّ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حَفْصٍ فَأَسْنَدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) اشعثی اس حدیث کو بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نہیں جانتا یہ حدیث کیسی ہے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ وہ عبدالرحمن کے بارے میں نہیں جانتے۔ «وَاللّٰہُ أَعْلَمُ»
یقیناً نماز کے اوقات کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور وہ کافی ہیں۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ انہوں نے اس لیے کہا کہ وہ عبدالرحمن کے بارے میں نہیں جانتے۔ «وَاللّٰہُ أَعْلَمُ»
یقیناً نماز کے اوقات کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں اور وہ کافی ہیں۔
حدیث نمبر: 3169
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ عِصَامٍ، ثنا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسی جیسی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 3170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ قَالَ: تَعْنِي فِي خِدَمَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " ⦗٣٠٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: گھر کے کام کاج، یعنی اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو کام کاج چھوڑ کر نماز کے لیے نکل پڑتے۔