کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ حُصَيْنٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ " ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّئُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں قیام کی اجازت دے دیں؟“ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی۔۔۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا تمہاری روحوں کو روکے رکھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔“ پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قضائے حاجت کو نکل گئے، پھر انہوں نے وضو کیا اور سورج بلند ہوچکا تھا۔ پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 3172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَسِيرِهِمْ قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: " احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا " فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ فَقُمْنَا فَزِعِينَ فَقَالَ: " ارْكَبُوا " فَسِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَاةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَاءِ، فَتَوَضَّأْنَا مِنْهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ نَادَى بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى صَّلَاةَ الْغَدَاةِ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَذَا الَّذِي تَهْمِسُونَ دُونِي؟ " فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ تَفْرِيطُنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ: " أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ " ثُمَّ قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَسْتَيْقِظُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي لَأَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، حَدِّثْ أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ ⦗٣٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَقَالَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لِيُبَيِّنَ أَنَّ وَقْتَهَا لَمْ يَتَحَوَّلْ إِلَى مَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ صَلَّاهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، يَعْنِي صَلَاةَ الْغَدِ، وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَلَى الْوَهْمِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبداللہ بن رباح نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے صحابہ کے سفر والی مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستے سے تھوڑا ہٹ گئے، پھر اپنا سر مبارک رکھا (یعنی آرام کے لیے لیٹ گئے)، پھر فرمایا: ”ہماری نماز کا خیال رکھنا۔“ سب سے پہلے بیدار ہونے والے نبی ﷺ تھے اور سورج بھی نکل چکا تھا۔ ہم بھی گھبرا کر بیدار ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو سواریوں پر سوار ہو کر نکلو۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح روشن ہو گیا، پھر آپ نے وضو کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا۔ اس میں کچھ پانی تھا، پھر ہم سب نے اس سے وضو کیا... انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پھر مؤذنِ رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت نماز (فجر کی سنتیں) ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ پھر آپ ﷺ اور ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے۔ ہم میں سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہم نے جو نماز میں کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے ہمیں دیکھ کر پوچھا: ”تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز میں ہماری کوتاہی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟“ پھر فرمایا: ”نیند کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے سے کوتاہی نہیں ہوتی۔ کوتاہی تو اس شخص سے ہوتی ہے جو بیداری اور یادداشت میں نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اسے چاہیے کہ جب اٹھے تو اسی وقت پڑھ لے اور آئندہ وقت پر نماز ادا کرے۔“...
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ارے نوجوان بھائی! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابونجید! آپ بیان کیجیے، آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے عرض کیا: انصار سے۔ انہوں نے فرمایا: تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو۔ میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اس طرح کرے، پھر جب اسے پتا چل جائے تو وہ نماز ادا کر لے لیکن آئندہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
(ج) شاید ان کی مراد یہ تھی کہ نمازِ فجر کا وقت سورج نکلنے تک نہیں رہتا، لہٰذا جب اگلا دن ہو تو نماز کو وقت پر ادا کر لے۔
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ارے نوجوان بھائی! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابونجید! آپ بیان کیجیے، آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے عرض کیا: انصار سے۔ انہوں نے فرمایا: تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو۔ میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو اس طرح کرے، پھر جب اسے پتا چل جائے تو وہ نماز ادا کر لے لیکن آئندہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
(ج) شاید ان کی مراد یہ تھی کہ نمازِ فجر کا وقت سورج نکلنے تک نہیں رہتا، لہٰذا جب اگلا دن ہو تو نماز کو وقت پر ادا کر لے۔
حدیث نمبر: 3173
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا قَالَ: ثنا أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ طَالِعَةً عَلَيْنَا، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُوَيْدًا رُوَيْدًا " حَتَّى تَعَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُصَلِّي هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَلْيُصَلِّهِمَا " قَالَ: فَصَلَّاهُمَا مَنْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا وَمَنْ كَانَ لَا يُصَلِّيهِمَا، ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا بِحَمْدِ اللهِ لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا شَغَلَنَا عَنْ صَلَاتِنَا، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللهِ أَرْسَلَهَا إِذَا شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الصَّلَاةُ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيُصَلّ مَعَهَا مِثْلَهَا " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ فِي قَوْلِهِ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ضَعْفِ هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَأَنَّ الصَّحِيحَ مَا مَضَى مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَحَدُ الرَّكْبِ كَمَا حَدَّثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ عَنْهُ، وَقَدْ صَرَّحَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ بِأَنْ لَا يَجِبَ مَعَ الْقَضَاءِ غَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) خالد بن سمیر روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رباح انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، انصار انھیں فقیہ کہا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے گھڑ سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔
پھر انھوں نے نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ جب سورج طلوع ہو کر کافی بلند ہو گیا تو ہم بیدار ہوئے، ہم نماز کے لیے جلدی کرنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو! تاکہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جائے۔“ پھر جب سورج کافی بلند ہو گیا تو فرمایا: ”جو شخص فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتا ہے وہ پڑھ لے“ تو تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اذان کے لیے حکم دیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں (اللہ کا شکر ہے) کہ ہمیں کسی دنیوی کام کی مشغولیت نے نماز سے غافل نہیں کیا، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، اس ذات نے جب چاہا ان (روحوں) کو آزاد کر دیا“ اور فرمایا: ”جو شخص کل فجر کی نماز کو وقت پر پالے تو اس جیسی ایک نماز اور پڑھ لے۔“
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا متابع موجود نہیں ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے اور آئندہ وقت پر ادا کرے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چیز جو اس کلمہ کے ضعف پر دلالت کرتی ہے اور صحیح بھی وہی ہے۔ یہ سلیمان بن مغیرہ کی حدیث میں گزر چکی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جیسا کہ عبداللہ بن رباح نے بھی ان سے بیان کیا ہے اور انھوں نے اس حدیث کے بارے میں تصریح فرما دی کہ قضا کے علاوہ کچھ بھی واجب نہ ہو گا۔
پھر انھوں نے نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ جب سورج طلوع ہو کر کافی بلند ہو گیا تو ہم بیدار ہوئے، ہم نماز کے لیے جلدی کرنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو! تاکہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جائے۔“ پھر جب سورج کافی بلند ہو گیا تو فرمایا: ”جو شخص فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتا ہے وہ پڑھ لے“ تو تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اذان کے لیے حکم دیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں (اللہ کا شکر ہے) کہ ہمیں کسی دنیوی کام کی مشغولیت نے نماز سے غافل نہیں کیا، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، اس ذات نے جب چاہا ان (روحوں) کو آزاد کر دیا“ اور فرمایا: ”جو شخص کل فجر کی نماز کو وقت پر پالے تو اس جیسی ایک نماز اور پڑھ لے۔“
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا متابع موجود نہیں ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے اور آئندہ وقت پر ادا کرے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چیز جو اس کلمہ کے ضعف پر دلالت کرتی ہے اور صحیح بھی وہی ہے۔ یہ سلیمان بن مغیرہ کی حدیث میں گزر چکی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جیسا کہ عبداللہ بن رباح نے بھی ان سے بیان کیا ہے اور انھوں نے اس حدیث کے بارے میں تصریح فرما دی کہ قضا کے علاوہ کچھ بھی واجب نہ ہو گا۔
حدیث نمبر: 3174
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، أَوْ قَالَ: سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسْنَا فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ مِنَّا يَنْتَبِهُ فَزِعًا دَهِشًا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ نَزَلْنَا فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَلَا نَقْضِيَهَا مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا " فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ " ⦗٣٠٨⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے یا سریہ کا لفظ بولا۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر سورج کے بلند ہونے کی وجہ سے ہماری آنکھ کھلی تو ہم گھبرا گئے، پھر جب رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو ہمیں حکم دیا کہ یہاں سے آگے چلیں۔ پھر ہم چلے حتیٰ کہ سورج کافی بلند ہو گیا، پھر ہم ایک دوسری جگہ اترے۔ لوگ اپنی اپنی حاجتوں سے فارغ ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، انہوں نے اذان کہی تو ہم نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں۔ پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو، کیا ہم کل بھی اس کو اس کے وقت سے قضا کر کے ادا کریں؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں سود سے منع کرتا ہے اور وہی تمہارے اعمال قبول کرتا ہے۔“
حدیث نمبر: 3175
وَرَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُهَلَّبِ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3176
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: " اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ " فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيْ بِلَالُ " فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " اقْتَادُوا "، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاة فَصَلَّى بِهُمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا " لِذِكْرَى " وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ " لِلذِّكْرَى " قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَةُ، يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ " لِذِكْرَى " قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ ﷺ نے رات کو کوچ کیا، یہاں تک کہ ہمیں نیند آنے لگی تو آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم رات کو ہماری نگرانی کرو۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے۔ نبی ﷺ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ یا آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ آگئی۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے گھبرا کر آواز دی: ”اے بلال!“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی، اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کر جاؤ۔“ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے تک کوچ کیا۔ پھر نبی ﷺ نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میری یاد کی خاطر نماز قائم کرو۔““
یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس کو «لِلذِّكْرَى» پڑھتے تھے۔
یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس کی سند سے «لِذِكْرِي» بیان کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔
یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس کو «لِلذِّكْرَى» پڑھتے تھے۔
یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس کی سند سے «لِذِكْرِي» بیان کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔
حدیث نمبر: 3177
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ " قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى وَهَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَجَمَاعَةٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٠٩⦘ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا وَمَنْ وَصَلَهُ ثِقَةٌ، وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس جگہ تم غفلت کا شکار ہوئے ہو وہاں سے کوچ کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا، انہوں نے اذان اور اقامت کہی تو آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 3178
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " فَفَعَلْنَا ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رات کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ ہم بیدار نہ ہوئے حتیٰ کہ آفتاب طلوع ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر آدمی اپنی سواری کی لگام پکڑ لے یعنی یہاں سے کوچ کر چلو، کیونکہ اس جگہ ہمارے پاس شیطان حاضر ہو گیا ہے“ تو ہم نے ایسے ہی کیا۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور فجر کی دو سنتیں ادا کیں۔ پھر اقامت کہی گئی اور آپ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 3179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمٌ، قَالُوا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ " ثُمَّ قَرَأَ قَتَادَةُ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے پڑھ لے اور اس کا کفارہ یہی ہے کہ وہ نماز قضا کرلے۔“ پھر قتادہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔“
حدیث نمبر: 3180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ وَهُوَ هُدْبَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے یہی روایت دوسری سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَالْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب بھی اسے یاد آجائے تو وہ نماز پڑھ لے۔“
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْقَارِيِّ، مِنْ بَنِي قَارَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَحَدِيثُ الْمَسْعُودِيِّ أَحْسَنُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَعَرَّسْنَا، فَقَالَ: " مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟ " وَقَالَ شُعْبَةُ: " مَنْ يَكْلَؤُنَا؟ " فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا قَالَ الْمَسْعُودِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّكَ تَنَامُ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟ " فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ⦗٣١٠⦘ إِنَّكَ تَنَامُ " فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنِمْتُ فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَنَعَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا فَافْعَلُوا، مَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو ہم نے رات کو جنگل میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا؟“ شعبہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہم پر پہرہ کون دے گا؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ مسعودی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ پھر فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون اٹھائے گا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اے اللہ کے رسول ﷺ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ تو میں نے ان پر پہرہ دیا حتیٰ کہ جب صبح قریب تھی میرے ساتھ وہی ہوا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا (کہ تم سو جاؤ گے) تو میں سو گیا۔ دھوپ کی وجہ سے ہم بیدار ہوئے، رسول اللہ ﷺ اٹھے اور حسب معمول کام کیا پھر فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا کہ تم نہ سوؤ تو تم کبھی نہ سوتے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے بعد والوں کے لیے مسئلہ واضح ہو جائے، لہٰذا تم میں سے کوئی سو جائے یا بھول جائے تو تم اس طرح کرو۔“
حدیث نمبر: 3183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي الْعَطَّافِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا " كَذَا رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ذَكَرْنَا لَيْسَ فِيهِ: فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ وَقْتَ الْقَضَاءِ لَا يَتَضَيَّقُ وَلَوْ كَانَ يَتَضَيَّقُ لَأَشْبَهَ أَنْ لَا يُؤَخِّرَهَا عَنْ حَالِ الِانْتِبَاهِ لِمَكَانِ الشَّيْطَانِ فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْنُقُ الشَّيْطَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَخَنْقُهُ الشَّيْطَانِ فِي الصَّلَاةِ أَكْبَرُ مِنْ وَادٍ فِيهِ شَيْطَانٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے وہی اس کا وقت ہے، لہٰذا اسی وقت پڑھ لے۔“۔۔۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت ہے، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت کم نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہو تو زیادہ مناسبت یہ ہے کہ اس کو خبردار کرنے کی حالت سے مؤخر نہ کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی جس کی وجہ سے شیطان کا دم گھٹ رہا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا دم گھونٹنا اس سے وادی بڑا ہے جس میں شیطان ہو۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت ہے، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت کم نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہو تو زیادہ مناسبت یہ ہے کہ اس کو خبردار کرنے کی حالت سے مؤخر نہ کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی جس کی وجہ سے شیطان کا دم گھٹ رہا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا دم گھونٹنا اس سے وادی بڑا ہے جس میں شیطان ہو۔
حدیث نمبر: 3184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَذَرَعْتُهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ " قَالَ: " فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي " قَالَ: " فَرَدَّهُ خَاسِئًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عفریت نامی جن گزشتہ رات مجھے تنگ کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے اختیار میں کر دیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھتے، لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی جو انہوں نے کی تھی: ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة ص: 35] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے“ تو میں نے اس کو رسوا کر کے چھوڑ دیا۔“
حدیث نمبر: 3185
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِي " وَقَالَ: " أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي، وَلَوْلَا مَا دَعَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَأَصْبَحَ مُنَاطًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ مِنْ أَسَاطِينِ الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " ⦗٣١١⦘ تَابَعَهُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، فَرَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس ایک بار شیطان آیا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا گھونٹا حتیٰ کہ مجھے اس کی زبان کی سردی اپنے ہاتھ پر محسوس ہوگئی۔ وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، اگر سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی کہ ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ﴾ [سورة ص: 35] تو ضرور یہ صبح کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔“