کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو فجر کی نماز میں قنوت کا قائل نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَوَاتِهِ " ⦗٣٠٢⦘ كَذَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی نماز میں قنوت نہیں پڑھی۔
اسے محمد بن جابر سحیمی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ متروک ہے۔
اسے محمد بن جابر سحیمی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور وہ متروک ہے۔
وَقَدْ رَوَى أَبُو حَمْزَةَ الْأَعْوَرُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى عُصَيَّةَ، وَذَكْوَانَ، فَلَمَّا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ تَرَكَ الْقُنُوتَ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ رَحِمَهُ اللهُ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، جس میں عصیہ اور ذکوان پر بددعا کرتے رہے۔ پھر جب آپ ان پر غالب آ گئے تو آپ نے قنوت ترک کر دی۔
(ب) عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف بددعا کرنا ترک کی تھی۔
(ب) عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف بددعا کرنا ترک کی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلَفَ أَبِي بَكْرٍ، وَخَلَفَ عُمَرَ؟ قَالَ: بَلَى قُلْتُ: فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ؟ قَالَ: " يَا بُنِيَّ مُحْدَثَةٌ " طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ الْأَشْجَعِيُّ لَمْ يَحْفَظْهُ عَمَّنْ صَلَّى خَلْفَهُ، فَرَآهُ مُحْدَثًا وَقَدْ حَفِظَهُ غَيْرُهُ، فَالْحُكْمُ لَهُ دُونَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا: ابا جان! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! میں نے کہا: کیا وہ فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! یہ تو بدعت ہے۔
(ب) طارق بن اشیم اشجعی نے اس سے روایت یاد ہی نہیں کی جس کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی، اس لیے وہ اس کو بدعت سمجھتے تھے حالانکہ یہ روایت ان کے علاوہ حضرات نے یاد کی ہے، لہٰذا اس کا حکم ان کے مخالف ہوگا۔
(ب) طارق بن اشیم اشجعی نے اس سے روایت یاد ہی نہیں کی جس کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی، اس لیے وہ اس کو بدعت سمجھتے تھے حالانکہ یہ روایت ان کے علاوہ حضرات نے یاد کی ہے، لہٰذا اس کا حکم ان کے مخالف ہوگا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمْ يَقْنُتْ، فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: لَا أَرَاكَ تَقْنُتُ قَالَ: " لَا أَحْفَظُهُ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِنَا " قَالَ الشَّيْخُ: نِسْيَانُ بَعْضِ الصَّحَابَةِ أَوْ غَفْلَتُهُ عَنْ بَعْضِ السُّنَنِ لَا يَقْدَحُ فِي رِوَايَةِ مَنْ حَفِظَهُ وَأَثْبَتَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابومجلز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی، انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں نے آپ کو قنوت پڑھتے نہیں دیکھا؟ انہوں نے فرمایا: اپنے اصحاب میں سے میں نے کسی سے بھی یہ حدیث نہیں سنی۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض صحابہ کا بھول جانے اور ان سے بعض سنتوں سے تساہل ہوجانے سے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت پر قدح (مذمت، تنکیر) لازم نہیں آتا جنہوں نے اس کو یاد کیا ہوا اور اسے ثابت رکھا ہو۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض صحابہ کا بھول جانے اور ان سے بعض سنتوں سے تساہل ہوجانے سے ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایت پر قدح (مذمت، تنکیر) لازم نہیں آتا جنہوں نے اس کو یاد کیا ہوا اور اسے ثابت رکھا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرَأَيْتَ قِيَامَهُمْ عِنْدَ فَرَاغِ الْقَارِئِ مِنَ السُّورَةِ، هَذَا الْقُنُوتَ؟ إِنَّهَا لَبِدْعَةٌ، مَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ " بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ النَّدَبِيُّ ضَعِيفٌ، وَإِنْ صَحَّتْ رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَفِيهَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَنْكَرَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ دَوَامًا وَأَمَّا الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
بشر بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا: ”کیا تو ان کے قیام کو دیکھ رہا ہے کہ قاری کے سورت سے فارغ ہونے کے بعد یہ قنوت یقیناً بدعت ہے، رسول اللہ ﷺ نے تو صرف ایک ماہ تک قنوت کی تھی، پھر اس کو چھوڑ دیا تھا“۔
اگر بشر بن حرب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے، مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔]
اگر بشر بن حرب کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کردہ روایت صحیح ہو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت کا انکار کیا ہے، مطلق قنوت کا انکار نہیں کیا۔
[ضعیف راوی، بشر بن حرب الندبی ضعیف ہے۔]
أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ الْقُنُوتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِدْعَةٌ " فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ، وَأَبُو لَيْلَى الْكُوفِيُّ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ رُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) جلیل القدر تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ صبح کی نماز میں قنوت پڑھنا بدعت ہے۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے، ابولیلیٰ کوفی متروک ہے۔
(ب) حالانکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہم گزشتہ اوراق میں ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
یہ روایت صحیح نہیں ہے، ابولیلیٰ کوفی متروک ہے۔
(ب) حالانکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہم گزشتہ اوراق میں ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثُ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ: مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى وَعَنْبَسَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ضُعَفَاءُ وَلَا يَصِحُّ لِنَافِعٍ سَمَاعٌ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ: وَقَالَ هَيَّاجٌ: عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنِ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ لَمْ تُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ”صبح کی نماز میں قنوت پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔“
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن یعلیٰ، عنبسہ اور عبداللہ بن نافع ضعیف ہیں اور نافع کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں۔ ہیاج نے اسے عنبسہ سے، انہوں نے ابن نافع سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے، اور صفیہ بنت ابی عبید نے نبی ﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محمد بن یعلیٰ، عنبسہ اور عبداللہ بن نافع ضعیف ہیں اور نافع کا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں۔ ہیاج نے اسے عنبسہ سے، انہوں نے ابن نافع سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے، اور صفیہ بنت ابی عبید نے نبی ﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔