کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " لَكِنْ مَنْ مَضَى كَانُوا إِذَا كَبَّرُوا مَكَثَ الْإِمَامُ سَاعَةً لَا يَقْرَأُ قَدْرَ مَا يَقْرَءُونَ بِأُمِّ الْكِتَابِ " قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانُوا " إِذَا كَبَّرُوا لَا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ، حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَنْ خَلْفَهُ قَدْ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ بات گزر چکی ہے کہ جب وہ تکبیر کہتے تھے تو امام کچھ دیر خاموش رہتا، قراءت نہ کرتا اتنی دیر تک کہ جتنی دیر میں وہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں۔
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج اپنی حدیث میں ابن خثیم کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تکبیر کہتے تو اس وقت تک قراءت شروع نہ کرتے جب تک انھیں علم نہ ہو جاتا کہ ان کے پیچھے والوں نے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے۔
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج اپنی حدیث میں ابن خثیم کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تکبیر کہتے تو اس وقت تک قراءت شروع نہ کرتے جب تک انھیں علم نہ ہو جاتا کہ ان کے پیچھے والوں نے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے۔
قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا بَنِيَّ " اقْرَءُوا فِي سَكْتَةِ الْإِمَامِ فَإِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹو! امام کے سکتہ میں (فاتحہ) پڑھ لیا کرو، کیونکہ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“
قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي كُلِّ صَلَاةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام کے پیچھے ہر نماز میں اپنے دل میں سورہ فاتحہ (ضرور) پڑھا کرو۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اقْرَأْ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ لو اور آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، " يُحْسِنُ الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
مالک بن مغول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبی رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ امام کے پیچھے عمدہ آواز میں قراءت کرتے تھے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: " اقْرَأْ فِي خَمْسِهِنَّ يَقُولُ: الصَّلَوَاتُ كُلُّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچوں (نمازوں) میں قراءت کر۔