السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2954
قَالَ: وَثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا بَنِيَّ " اقْرَءُوا فِي سَكْتَةِ الْإِمَامِ فَإِنَّهُ لَا تَتِمُّ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹو! امام کے سکتہ میں (فاتحہ) پڑھ لیا کرو، کیونکہ ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“