السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يقرأ خلف الإمام فيما يجهر فيه بالقراءة بفاتحة الكتاب وفيما يسر فيه بفاتحة الكتاب فصاعدا باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھی جائے اور سری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور اس سے زیادہ پڑھا جائے
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: " لَكِنْ مَنْ مَضَى كَانُوا إِذَا كَبَّرُوا مَكَثَ الْإِمَامُ سَاعَةً لَا يَقْرَأُ قَدْرَ مَا يَقْرَءُونَ بِأُمِّ الْكِتَابِ " قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانُوا " إِذَا كَبَّرُوا لَا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ، حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَنْ خَلْفَهُ قَدْ قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ بات گزر چکی ہے کہ جب وہ تکبیر کہتے تھے تو امام کچھ دیر خاموش رہتا، قراءت نہ کرتا اتنی دیر تک کہ جتنی دیر میں وہ سورہ فاتحہ پڑھ لیں۔
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج اپنی حدیث میں ابن خثیم کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ تکبیر کہتے تو اس وقت تک قراءت شروع نہ کرتے جب تک انھیں علم نہ ہو جاتا کہ ان کے پیچھے والوں نے سورہ فاتحہ پڑھ لی ہے۔