کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تشہد میں اشارہ کرنے والا اپنے اشارے سے کیا نیت کرے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ ⦗١٩١⦘ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ، فَرَآنِي أُشِيرُ بِأُصْبُعِي فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي، لِمَ تَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ خِيَارَ النَّاسِ وَفُقَهَاءَهُمْ يَفْعَلُونَهُ " قَالَ: قَدْ أَصَبْتَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، إِذَا جَلَسَ يَتَشَهَّدُ فِي صَلَاتِهِ " وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: " إِنَّمَا يَسْحَرُنَا، وَإِنَّمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّوْحِيدَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوالقاسم مقسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ کے پاس نماز ادا کی۔ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! اس طرح کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں نے صلحاء اور فقہاء کو اس طرح کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا: تم صحیح کہتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ جب نماز میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔ مشرکین کہتے: یہ تو ہم پر جادو کر رہا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے توحید مراد لے رہے ہوتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ قَالَ: أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ حَامِدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَذَكَرَ جُلُوسَهُ قَالَ: " وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِي الْيُسْرَى، وَوَضَعْتُ يَدِي الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِي الْيُمْنَى، وَنَصَبْتُ أُصْبُعِي السَّبَابَةَ قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ لِي: لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعِكَ هَكَذَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ قَالَ: فَإِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ " وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: " إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِأُصْبُعِهِ لِيَسْحَرَ، وَكَذَبُوا " إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؛ لِمَا يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث بن نوفل کے غلام ابوالقاسم مقسم فرماتے ہیں کہ مجھے اہل مدینہ کے ایک آدمی نے حدیث بیان کی کہ میں نے بنی غفار کی مسجد میں نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے اپنے قعدے کا ذکر کیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اور اپنی شہادت والی انگلی کو کھڑا کر لیا۔ مجھے خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔ جب میں نے اپنی نماز سے سلام پھیرا تو انہوں نے مجھے کہا: تم نے اپنی انگلی اس طرح کیوں کھڑی کی تھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: تم درست کہتے ہو۔ بیشک رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تھے تو اس طرح کرتے تھے اور مشرک لوگ کہتے تھے کہ محمد ﷺ اپنی انگلی اس طرح اس لیے کرتا ہے تاکہ جادو کرے، وہ جھوٹ بولتے تھے، رسول اللہ ﷺ تو اس طرح اس لیے کرتے تھے تاکہ اس کے ساتھ اپنے رب کی توحید بیان کریں جو بابرکت اور بلند وبالا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّجُلِ يَدْعُو يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " هُوَ الْإِخْلَاصُ ".
حافظ ثناء اللہ
عیزار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو دعا کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایسا کرنا اخلاص ہے۔
وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ فِي الْجَامِعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ التَّمِيمِيِّ وَهُوَ أَرْبَدَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " هُوَ الْإِخْلَاصُ " وَعَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: ذَلِكَ التَّضَرُّعُ، وَعَنْ عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: مُقْمِعَةٌ لِلشَّيْطَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو النَّصْرِ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، فَذَكَرَهُنَّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایسا کرنا اخلاص ہے۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایسا کرنا عاجزی ہے۔
(ج) عثمان، مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایسا کرنا عاجزی ہے۔
(ج) عثمان، مجاہد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ شیطان کے لیے ہتھوڑا ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ⦗١٩٢⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هَكَذَا الْإِخْلَاصُ " يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ " وَهَذَا الدُّعَاءُ " فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ " وَهَذَا الِابْتِهَالُ " فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا کرنا اخلاص ہے“، آپ ﷺ اپنے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے، ”اور یہ دعا ہے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا، ”اور یہ ابتہال (گڑگڑا کر دعا کرنا) ہے“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو خوب بلند کر لیا۔