السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما ينوي المشير بإشارته في التشهد باب: تشہد میں اشارہ کرنے والا اپنے اشارے سے کیا نیت کرے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2792
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ ⦗١٩١⦘ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ، فَرَآنِي أُشِيرُ بِأُصْبُعِي فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي، لِمَ تَفْعَلُ هَذَا؟ قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ خِيَارَ النَّاسِ وَفُقَهَاءَهُمْ يَفْعَلُونَهُ " قَالَ: قَدْ أَصَبْتَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ، إِذَا جَلَسَ يَتَشَهَّدُ فِي صَلَاتِهِ " وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: " إِنَّمَا يَسْحَرُنَا، وَإِنَّمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّوْحِيدَ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالقاسم مقسم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے اہل مدینہ میں سے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں نے خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ کے پاس نماز ادا کی۔ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! اس طرح کیوں کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ میں نے صلحاء اور فقہاء کو اس طرح کرتے دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا: تم صحیح کہتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ جب نماز میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔ مشرکین کہتے: یہ تو ہم پر جادو کر رہا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ اس سے توحید مراد لے رہے ہوتے تھے۔