أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: " قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: هُوَ سُنَّةٌ، فَقُلْنَا: فَإِنَّا نَرَى ذَلِكَ مِنَ الْجَفَاءِ إِذَا فَعَلَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے طاؤس رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایڑیوں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ ہم نے عرض کیا: جب کوئی آدمی اس طرح بیٹھتا ہے تو ہم اسے گنوار پن سمجھتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمہارے نبی محمد ﷺ کی سنت ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تَمَسَّ إِلْيَتَاكَ عَقِبَيْكَ " زَادَ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ: " بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ سرین ایڑیوں کو چھوئے یعنی ایڑیوں پر بیٹھنا سنت ہے۔
(ب) سفیان کی روایت میں اضافہ ہے کہ دو سجدوں کے درمیان اس طرح بیٹھنا سنت ہے۔
(ب) سفیان کی روایت میں اضافہ ہے کہ دو سجدوں کے درمیان اس طرح بیٹھنا سنت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَنِ انْتِصَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ ⦗١٧٢⦘ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ إِذَا صَلَّى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَذْكُرُهُ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ: " وَاللهِ إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ هَذَا جَفَاءً مِمَّنْ صَنَعَهُ قَالَ: فَقَالَ: " إِنَّهَا لَسُنَّةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن اسحاق نے رسول اللہ ﷺ کے سجدوں کے درمیان اپنی ایڑیوں اور پاؤں کی انگلیوں کو کھڑا کرنے کے بارے میں حدیث بیان کی۔ عبداللہ بن ابی نجیح، مجاہد بن جبر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے سنا تو ان سے عرض کیا: ”اے ابوعباس! واللہ! جو یہ کام کرتا ہے ہم اسے گنوار پن شمار کیا کرتے تھے“، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " إِذَا سَجَدَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْأُولَى يَقْعُدُ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ، وَيَقُولُ: إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عجلان سے روایت ہے کہ ابو زبیر نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دورانِ نماز سجدہ کرتے ہوئے دیکھا، جب وہ سجدے سے سر اٹھاتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھ جاتے اور فرماتے تھے کہ ”یہ سنت ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ كَانَا يُقْعِيَانِ " قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: وَكَانَ طَاوُسٌ يُقْعِي.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں ایڑیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ ابوزبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ طاؤس رحمہ اللہ بھی ایڑیوں پر بیٹھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ قَالَ: رَأَيْتُ طَاوُسًا يُقْعِي، فَقُلْتُ رَأَيْتُكَ تُقْعِي، فَقَالَ: " مَا رَأَيْتُنِي أُقْعِي وَلَكِنَّهَا الصَّلَاةُ رَأَيْتُ الْعَبَادِلَةَ الثَّلَاثَةَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، يَفْعَلُونَهُ " قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ: وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُقْعِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابوزہیر معاویہ بن حدیج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے طاؤس رحمہ اللہ کو ایڑیوں پر بیٹھے دیکھا، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایڑیوں پر بیٹھتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: تم نے مجھے جیسے دیکھا یہی نماز کا طریقہ ہے، میں نے عبادلہ ثلاثہ (عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر) رضی اللہ عنہم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے۔
ابوزہیر کہتے ہیں: اور میں نے انہیں (طاؤس کو) ایڑیوں پر بیٹھتے دیکھا ہے۔
ابوزہیر کہتے ہیں: اور میں نے انہیں (طاؤس کو) ایڑیوں پر بیٹھتے دیکھا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ شَيْبَانَ الْبَغْدَادِيُّ الْهَرَوِيُّ بِهَا أنبأ مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَفْوَانَ الْكُوفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ وَهُمَا يُقْعِيَانِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِهِمَا " قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَسَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَكَ، إِنْ شِئْتَ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِكَ، وَإِنْ شِئْتَ عَلَى عَجُزِكَ، فَهَذَا الْإِقْعَاءُ الْمُرَخَّصُ فِيهِ، أَوِ الْمَسْنُونُ عَلَى مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ وَهُوَ أَنْ يَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ وَيَضَعَ إِلْيَتَيْهِ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَضَعَ رُكْبَتَيْهِ بِالْأَرْضِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) طاوس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ دونوں نماز میں سجدوں کے درمیان جلسہ میں اپنے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھتے تھے۔
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کر لو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہے جس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات ذکر کر چکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔
(ب) ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطا رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ان میں سے جو طریقہ بھی اختیار کر لو تمہیں کفایت کر جائے گا۔ اگر چاہو تو پاؤں کی انگلیوں کے پوروں پر بیٹھ جاؤ اور اگر چاہو تو اپنی مقعد پر بیٹھ جاؤ۔
(ج) یہ جائز یا مسنون اقعاء (ایڑیوں پر بیٹھنا) ہے جس کے بارے میں ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات ذکر کر چکے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سرے زمین پر رکھے اور اپنی سرین کو اپنی ایڑیوں پر رکھے اور گھٹنے زمین پر ہوں۔