أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ ⦗١٧٣⦘ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِقْعَاءِ فِي الصَّلَاةِ " خَالَفَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز میں اقعاء کرنے سے منع فرمایا ہے“۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا السَّالَحِينِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْعَاءِ وَالتَّوَرُّكِ فِي الصَّلَاةِ " تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَقَدْ قِيلَ: عَنْهُ، عَنْ حَمَّادٍ، وَبَحْرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَالرِّوَايَةُ الْأُولَى أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ”نماز میں اقعاء اور تورک کرنے“ سے منع فرمایا ہے۔
یہ روایت حماد بن سلمہ سے صرف یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے بیان کی ہے، اور ان سے حماد اور بحر بن کثیر کے واسطے سے قتادہ عن انس کی سند سے بھی منقول ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
یہ روایت حماد بن سلمہ سے صرف یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے بیان کی ہے، اور ان سے حماد اور بحر بن کثیر کے واسطے سے قتادہ عن انس کی سند سے بھی منقول ہے، اور پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ، أَمَرَنِي بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَنَهَانِي عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ الْتِفَاتَ الثَّعْلَبِ، وَأُقْعِي إِقْعَاءَ الْقِرْدِ، وَأَنْقُرُ نَقْرَ الدِّيكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین کاموں سے منع کیا ہے: آپ ﷺ نے مجھے ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اور وتر پڑھ کر سونے اور چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے نماز میں لومڑی کی طرح جھانکنے، بندر کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگیں مارنے سے منع کیا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَزَّانُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: " وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ " الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَكَذَلِكَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ صَحِيحٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی!۔۔۔“ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو سجدوں کے درمیان «الإِقْعَاءَ» نہ کرنا۔“
حارث اعور (کی روایت) سے دلیل نہیں لی جاتی، اور اسی طرح لیث بن ابی سلیم سے بھی، جبکہ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث صحیح ہے۔
حارث اعور (کی روایت) سے دلیل نہیں لی جاتی، اور اسی طرح لیث بن ابی سلیم سے بھی، جبکہ ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کی حدیث صحیح ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ حَكَى، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ أَنَّهُ قَالَ: " الْإِقْعَاءُ وَهُوَ أَنْ يَلْصَقَ إِلْيَتَيْهِ بِالْأَرْضِ وَيَنْتَصِبَ عَلَى سَاقَيْهِ وَيَضَعَ يَدَيْهِ بِالْأَرْضِ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: الْإِقْعَاءُ جُلُوسُ الْإِنْسَانِ عَلَى إِلْيَتَيْهِ نَاصِبًا فَخِذَيْهِ مِثْلَ إِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالسَّبُعِ " قَالَ الشَّيْخُ: " وَهَذَا النَّوْعُ مِنَ الْإِقْعَاءِ غَيْرُ مَا رُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَهَذَا مَنْهِيٌّ عَنْهُ، وَمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ مَسْنُونٌ، وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى " ⦗١٧٤⦘ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ وَارِدًا فِي الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ، فَلَا يَكُونَ مُنَافِيًا لِمَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَفِي الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوعبیدہ سے منقول ہے کہ «اِقْعَاء» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی سرین کو زمین پر رکھ لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا کرلے اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھ لے۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہوں۔
(ج) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اِقْعَاء» کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں نقل کرچکے ہیں، بلکہ یہاں پر جو «اِقْعَاء» ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایات میں ہے، وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ”شیطان کی چوکڑی“ سے منع کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے، تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ آخری تشہد میں ہوں، تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم۔
(ب) ایک دوسرے مقام پر اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ انسان کا اپنی سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ (درندے اور کتے کی طرح) اس کی رانیں کھڑی ہوں۔
(ج) شیخ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «اِقْعَاء» کی یہ قسم وہ نہیں ہے جو ہم عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں نقل کرچکے ہیں، بلکہ یہاں پر جو «اِقْعَاء» ہے اس سے منع کیا گیا ہے اور جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایات میں ہے، وہ مسنون ہے۔ رہی بات ابوجوزا کی حدیث کی جو وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ”شیطان کی چوکڑی“ سے منع کرتے تھے اور آپ ﷺ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھاتے اور دائیں ٹانگ کو کھڑا رکھتے، تو اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ آخری تشہد میں ہوں، تو یہ ان روایتوں کے منافی نہیں ہے جو ہم ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دو سجدوں کے درمیان جلسہ کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں۔ واللہ اعلم۔