کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: دو سجدوں کے درمیان بائیں پاؤں پر بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2730
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَذَكَرَ ⦗١٧١⦘ الْحَدِيثَ فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ: " ثُمَّ يَهْوِي سَاجِدًا إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے ایک گروہ میں، جس میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، فرماتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے طریقے کے بارے میں مکمل حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی ہے کہ وہ زمین کی طرف جھکتے تو اپنے ہاتھوں (بازوؤں) کو پہلوؤں سے دور رکھتے، پھر اپنے سر کو اٹھاتے تو اپنی بائیں ٹانگ کو موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2730
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2642۔ 2643»
حدیث نمبر: 2731
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ قَالَ: أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبَّادٍ الْفَرْغَانِيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ فِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: ثُمَّ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ وَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ قِيلَ فِي إِسْنَادِهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللهِ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ أَنَّهُ حَضَرَ أَبَا حُمَيْدٍ وَأَبَا أُسَيْدٍ وَرِجَالًا مِنْهُمْ فِي الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
عباس بن سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ وہ اس مجلس میں تھے جس میں ان کے والد (سہل بن سعد رضی اللہ عنہ) بھی تھے جو صحابی رسول ہیں۔ اس مجلس میں سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابواسید اور سیدنا ابوحمید ساعدی انصاری رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے نماز کا تذکرہ کیا تو سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ کر سجدہ کیا اور اپنے ہاتھوں، گھٹنوں اور قدموں کی سیدھی طرف کھڑا کیا اور سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہہ کر بیٹھ گئے اور ایک ٹانگ بچھا کر اس کے اوپر بیٹھ گئے اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کیا، پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔
(ب) ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کی سند میں عیسیٰ بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے عباس بن سہل سے سنا کہ انہوں نے سیدنا ابوحمید، سیدنا ابواسید اور دیگر حضرات رضی اللہ عنہم کو نماز میں حاضر پایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2731
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله واصله في البخاري»