کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: تکبیر کے بعد نماز کی ابتدا (دعائے استفتاح) کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ⦗٤٩⦘ جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي " فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " لَفْظُ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " وَقَالَ: " فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " وَمَا أَسْرَفْتُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ: " وَمَا أَسْرَفْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، یک سوئی سے تابع فرماں ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”یقیناً میری نماز، قربانی، زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کر، تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، مجھ سے برے اخلاق کو دور کر دے، تیرے سوا برے اخلاق سے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تمام خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائیوں کو تیری طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ سے التجا کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“ “ پھر جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو فرماتے: ”«اللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، تیرے ہی آگے میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور اعضاء جھکتے ہیں۔“ “ جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو فرماتے: ”«اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! حمد و ستائش تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ آسمان و زمین اور ان کا درمیانی خلا بھر جائے اور ان کے علاوہ بھی جو تو چاہے بھر جائے۔“ “ پھر جب سجدہ کرتے تو کہتے: ”«اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے آگے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں کان اور خوبصورت آنکھیں بنائیں۔ اللہ برکت والا ہے جو نہایت عمدہ تخلیق کرنے والا ہے۔“ “ پھر آپ ﷺ تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: ”«اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا اور جو میں نے بعد میں کیا اور جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے علانیہ کیا اور جو میں نے زیادتی کی اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ “
(ب) عبدالعزیز کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر فرماتے: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”میں پہلا مسلمان ہوں۔“
راوی کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: ”«سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف بیان کی۔ اے ہمارے پروردگار! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے بھر جائے اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے“ “ اور فرمایا: ”«الَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”جس نے اس کی نہایت عمدہ صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے۔ اللہ بڑا بابرکت ہے جو سب سے عمدہ تخلیق کرنے والا ہے“ “ پھر جب سلام پھیرتے۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کا ذکر کیا ہے لیکن آپ ﷺ کا قول ”وَمَا أَسْرَفْتُ“ ذکر نہیں کیا۔
(ج) ایک دوسری سند سے ”وَمَا أَسْرَفْتُ“ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2343
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد 1/ 93، 717»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ⦗٥٠⦘ جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ مِنْ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ جب فرض نماز شروع فرماتے تو پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ میں اسی کا تابع فرماں ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے۔ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی فرما۔ تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں اور مجھ کو برے اخلاق سے دور رکھ۔ تیرے سوا برے اخلاق دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور سیدھی راہ پر وہی ہے جسے تو نے ہدایت بخشی۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے التجا کرتا ہوں تو برکتوں والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیاں اور جس حصے پر میرے قدم قائم ہیں، اے اللہ! سب تیرے لیے ہی جھکتے ہیں تو سب جہانوں کا رب ہے۔“
اور جب فرض نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد ہر وہ چیز جو تو چاہے بھر جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2344
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: يَقُولُ: حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي " فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ: " اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ " فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " وَاهْدِنِي " إِلَى قَوْلِهِ: " لَبَّيْكَ "، ثُمَّ قَالَ: " لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُكَ، ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ " ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِي بِمَعْنَى حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَحَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَتَمُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ تکبیر کے بعد جب نماز شروع کرتے تو پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ...» مکمل دعا ذکر کی اور «وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ...» ”اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا معبودِ برحق کوئی نہیں۔ تو پاک ہے۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔“ پھر مکمل دعا ذکر کی لیکن «وَاهْدِنِي» سے «لَبَّيْكَ» تک نہیں پڑھا، پھر «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَسْتَغْفِرُ ثُمَّ أَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے امید لگائے بیٹھا ہوں۔ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف کوئی پناہ نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں، پھر تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“
پھر عبدالعزیز کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی اور عبدالعزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2345
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَعَمِلْتُ سُوءًا فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " وَقَدْ حَكَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ هُشَيْمٍ مِنْ غَيْرِ سَمَاعٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَلِيٍّ، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا فَيُحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعَهُ مِنْهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ " وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ " وَكَذَلِكَ فِي بَعْضِ ⦗٥١⦘ الرِّوَايَاتِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَفِي بَعْضِهَا وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَجْعَلُ مَكَانَ " وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَبِذَلِكَ أَمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَجِمَاعَةٌ مِنْ فُقَهَاءِ الْمَدِينَةِ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ رَحِمَهُ اللهُ: وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، تَفْسِيرُهُ وَالشَّرُّ لَا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ پڑھتے: ”تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تو پاک ہے۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور برے عمل کیے، سو مجھے معاف فرما دے۔ بیشک تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا۔ میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں یکسوئی کے ساتھ تابع فرماں ہوا اور میں مشرکوں سے بھی نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۝ لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] (بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں) اور میں مسلمانوں سے ہوں۔“
(ب) عبدالعزیز بن ابی سلمہ رحمہ اللہ کی روایت کے الفاظ «وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“ ہیں اور بعض روایات میں «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ”میں مسلمانوں میں سے ہوں“ ہے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» کی جگہ «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کے الفاظ ہی بہتر ہیں۔
(د) شیخ فرماتے ہیں کہ محمد بن منکدر رحمہ اللہ اور فقہاء مدینہ نے اسی کا حکم دیا ہے۔
(ن) نضر بن شمیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ» ”اور شر تیری طرف (منسوب) نہیں“ کی تفسیر یہ ہے کہ شر کے ذریعے تیرا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2346
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»