السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: افتتاح الصلاة بعد التكبير باب: تکبیر کے بعد نماز کی ابتدا (دعائے استفتاح) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ وَأَنَا سَأَلْتُهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ⦗٥٠⦘ جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي، وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ مِنْ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ".سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یقیناً رسول اللہ ﷺ جب فرض نماز شروع فرماتے تو پڑھتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کر دیا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ میں اسی کا تابع فرماں ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقیناً میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو پاک ہے اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے۔ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی فرما۔ تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں اور مجھ کو برے اخلاق سے دور رکھ۔ تیرے سوا برے اخلاق دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے دربار میں حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور سیدھی راہ پر وہی ہے جسے تو نے ہدایت بخشی۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ ہی سے التجا کرتا ہوں تو برکتوں والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا۔ تو میرا رب ہے۔ میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیاں اور جس حصے پر میرے قدم قائم ہیں، اے اللہ! سب تیرے لیے ہی جھکتے ہیں تو سب جہانوں کا رب ہے۔“
اور جب فرض نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین بھر جائیں اور ان کے بعد ہر وہ چیز جو تو چاہے بھر جائے۔“