السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: افتتاح الصلاة بعد التكبير باب: تکبیر کے بعد نماز کی ابتدا (دعائے استفتاح) کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي ⦗٤٩⦘ جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي " فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: " اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " فَإِذَا سَجَدَ قَالَ: " اللهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ وَصَوَّرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالسَّلَامِ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " لَفْظُ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: " إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ " وَقَالَ: " فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ " فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الدُّعَاءَ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " وَمَا أَسْرَفْتُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَذَكَرَ قَوْلَهُ: " وَمَا أَسْرَفْتُ ".سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”«وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ”میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی جانب متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، یک سوئی سے تابع فرماں ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”یقیناً میری نماز، قربانی، زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں۔ تو مجھے اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کر، تیرے سوا اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، مجھ سے برے اخلاق کو دور کر دے، تیرے سوا برے اخلاق سے دور کرنے والا کوئی نہیں۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ تمام خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائیوں کو تیری طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ میں تیرے ساتھ ہوں اور تجھ سے التجا کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلندیوں والا ہے۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔“ “ پھر جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو فرماتے: ”«اللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، تیرے ہی آگے میرے کان، آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور اعضاء جھکتے ہیں۔“ “ جب رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو فرماتے: ”«اللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! حمد و ستائش تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ آسمان و زمین اور ان کا درمیانی خلا بھر جائے اور ان کے علاوہ بھی جو تو چاہے بھر جائے۔“ “ پھر جب سجدہ کرتے تو کہتے: ”«اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے تابع فرماں ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے آگے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اس میں کان اور خوبصورت آنکھیں بنائیں۔ اللہ برکت والا ہے جو نہایت عمدہ تخلیق کرنے والا ہے۔“ “ پھر آپ ﷺ تشہد اور سلام کے درمیان پڑھتے: ”«اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا اور جو میں نے بعد میں کیا اور جو میں نے چھپ کر کیا اور جو میں نے علانیہ کیا اور جو میں نے زیادتی کی اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ “
(ب) عبدالعزیز کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے، پھر فرماتے: «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”میں پہلا مسلمان ہوں۔“
راوی کہتے ہیں کہ جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: ”«سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف بیان کی۔ اے ہمارے پروردگار! تعریف تیرے ہی لیے ہے اتنی کہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے بھر جائے اور ان کے بعد ہر وہ چیز بھر جائے جو تو چاہے“ “ اور فرمایا: ”«الَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”جس نے اس کی نہایت عمدہ صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے۔ اللہ بڑا بابرکت ہے جو سب سے عمدہ تخلیق کرنے والا ہے“ “ پھر جب سلام پھیرتے۔۔۔ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کا ذکر کیا ہے لیکن آپ ﷺ کا قول ”وَمَا أَسْرَفْتُ“ ذکر نہیں کیا۔
(ج) ایک دوسری سند سے ”وَمَا أَسْرَفْتُ“ کے الفاظ بھی منقول ہیں۔