حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ إِمْلَاءً فِي جَامِعِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانُ النَّجَّادُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي هَارُونُ يَعْنِي ابْنَ مَعْرُوفٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ أَنَّ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ حَدَّثَهُ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوِا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ ".
حافظ ثناء اللہ
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت ہمیشہ فطرت (سلیمہ) پر ہی رہے گی، جب تک یہ مغرب کی نماز ستاروں کے نکلنے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ " وَقَدْ رَوِّينَا فِيمَا مَضَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بَعْضُ مَنْ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت اس وقت تک فطرت (سلیمہ) پر قائم رہے گی جب تک مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے تک مؤخر نہیں کرے گی۔“
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ ان لوگوں نے اس سے دلیل پکڑی ہے جو مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے ہیں۔
ہم نے پیچھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ ان لوگوں نے اس سے دلیل پکڑی ہے جو مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے ہیں۔
بِمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا أُوفِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ " قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ عَنِ الشَّاهِدِ فَقَالَ: هُوَ النَّجْمُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ وَلَا يَجُوزُ تَرْكُ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ بِهَذَا وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ بِهَذَا نَفْيُ التَّطَوُّعِ بَعْدَهَا لَا بَيَانُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مخمص مقام پر نبی ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نماز (عصر) تم سے پہلے والی امتوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو ضائع کر دیا؛ لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی اس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور اس کے بعد شاہد ستارہ طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔“
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔