کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے عشاء کی نماز جلدی ادا کرنے کا قول کیا، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ⦗٦٥٩⦘ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ " وَسَائِرُ مَا رُوِيَ فِي التَّعْجِيلِ بِالصَّلَوَاتِ عَلَى الْعُمُومِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ عشاء کی نماز کا وقت کب ہے۔
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گزر چکا۔
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز تیسری رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گزر چکا۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ ثنا رَوْحٌ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: " أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَكَانَ أَمْكَنَ لِقَائِمِنَا " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُنَادِي: لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نو راتوں تک عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اس نماز کو جلدی پڑھا دیا کریں تو ہم زیادہ دیر قیام کر سکتے ہیں۔
(ب) ابن منادی کی روایت میں «أَمْكَنُ لِقِيَامِنَا» کی جگہ «أَمْثَلُ لِقِيَامِنَا» کے الفاظ ہیں ”کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا“۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ جلدی نماز پڑھاتے تھے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن زید بن جدعان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔
(ب) ابن منادی کی روایت میں «أَمْكَنُ لِقِيَامِنَا» کی جگہ «أَمْثَلُ لِقِيَامِنَا» کے الفاظ ہیں ”کہ رات کا قیام ہمارے لیے زیادہ آسان ہوتا“۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ جلدی نماز پڑھاتے تھے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں علی بن زید بن جدعان منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔