السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية تأخير المغرب باب: مغرب کی نماز میں تاخیر کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2110
بِمَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ السَّبَائِيُّ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا أُوفِيَ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ " قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ: سَأَلْتُ اللَّيْثَ عَنِ الشَّاهِدِ فَقَالَ: هُوَ النَّجْمُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ وَلَا يَجُوزُ تَرْكُ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ الْمَشْهُورَةِ بِهَذَا وَإِنَّمَا الْمَقْصُودُ بِهَذَا نَفْيُ التَّطَوُّعِ بَعْدَهَا لَا بَيَانُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مخمص مقام پر نبی ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ نماز (عصر) تم سے پہلے والی امتوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کو ضائع کر دیا؛ لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی اس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور اس کے بعد شاہد ستارہ طلوع ہونے تک کوئی نماز نہیں۔“
ابن بکیر کہتے ہیں: میں نے لیث سے شاہد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ ایک ستارہ ہے۔
اس حدیث کی وجہ سے صحیح اور مشہور احادیث کو چھوڑنا جائز نہیں۔ اس سے مغرب کے وقت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہاں عصر کے بعد نوافل کی نفی مراد ہے۔