کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کا اپنے اور اپنی ساتھیوں کے لیے اذان اور اقامت کہنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ثنا لَيْثٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا: " كَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِيمُ وَتَؤُمُّ النِّسَاءَ وَتَقُومُ وَسْطَهُنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ اذان دیتی اور اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کرواتی تھیں اور وہ ان کے درمیان میں کھڑی ہوتی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثنا ابْنُ صَاعِدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ ثَوْبَانَ هَلْ عَلَى النِّسَاءِ إِقَامَةٌ فَحَدَّثَنِي أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَأَلْتُ مَكْحُولًا فَقَالَ: " إِذَا أَذَّنَّ فَأَقَمْنَ فَذَلِكَ أَفْضَلُ وَإِنْ لَمْ يَزِدْنَ عَلَى الْإِقَامَةِ أَجْزَأَتْ عَنْهُنَّ قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ: وَإِنْ لَمْ يُقِمْنَ فَإِنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كُنَّا ⦗٦٠١⦘ نُصَلِّي بِغَيْرِ إِقَامَةٍ " وَهَذَا إِنْ صَحَّ مَعَ الْأَوَّلِ فَلَا يُنَافِيَانِ لِجَوازِ فِعْلِهَا ذَلِكَ مَرَّةً وَتَرْكِهَا أُخْرَى لِجَوَازِ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا وَاللهُ أَعْلَمُ وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَتُقِيمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عروہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ثوبان سے پوچھا: کیا عورتوں پر اقامت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ان کے والد نے مکحول سے نقل کیا کہ وہ اذان دیں اور اقامت کہیں تو یہ افضل ہے اور اقامت سے زیادہ نہ کریں تو یہ ان کو کفایت کر جائے گی، ابن ثوبان کہتے ہیں: اگرچہ وہ اقامت نہ کہیں۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم بغیر اقامت کے نماز پڑھتی تھیں۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم بغیر اقامت کے نماز پڑھتی تھیں۔