أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ أَذَانٌ وَلَا إِقَامَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ أَذَانٌ وَلَا إِقَامَةٌ وَلَا جُمُعَةٌ وَلَا اغْتِسَالُ جُمُعَةٍ وَلَا تَقَدَّمُهُنَّ امْرَأَةٌ وَلَكِنْ تَقُومُ فِي وَسَطِهِنَّ " هَكَذَا رَوَاهُ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَرُوِّينَاهُ فِي الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ وَهُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَابْنِ سِيرِينَ وَالنَّخَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں پر اذان اور اقامت نہیں ہے اور نہ ہی جمعہ اور نہ جمعہ کا غسل اور نہ عورت ان کے آگے ہوگی بلکہ ان کے درمیان میں کھڑی ہوگی۔“
اسی طرح اسے حکم بن عبداللہ ایلی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اذان اور اقامت کے بارے میں یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور مرفوعاً بھی مروی ہے اور اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔
اسی طرح اسے حکم بن عبداللہ ایلی نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے۔ اذان اور اقامت کے بارے میں یہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور مرفوعاً بھی مروی ہے اور اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔