السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: أذان المرأة وإقامتها لنفسها وصواحباتها باب: عورت کا اپنے اور اپنی ساتھیوں کے لیے اذان اور اقامت کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ ثنا لَيْثٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا: " كَانَتْ تُؤَذِّنُ وَتُقِيمُ وَتَؤُمُّ النِّسَاءَ وَتَقُومُ وَسْطَهُنَّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ اذان دیتی اور اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کرواتی تھیں اور وہ ان کے درمیان میں کھڑی ہوتی تھیں۔