السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: زوال العقل بالسكر لا يكون عذرا في سقوط الفرض عنه باب: نشے کی وجہ سے عقل کا زائل ہو جانا اس پر سے فرض کے ساقط ہونے کا عذر نہیں بن سکتا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْقَلَانِسِيُّ بِالرَّمْلَةِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ حَسَنَةٌ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ " تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرٌ هَكَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی اور نہ ان کی نیکی (آسمان پر) چڑھتی ہے: بھگوڑا غلام یہاں تک کہ اپنے مالک کے پاس واپس آ جائے اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں رکھ دے، اور وہ عورت جس پر اس کا خاوند ناراض ہو اور نشے والا یہاں تک کہ صحیح ہو جائے۔“