کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مغرب کو عشاء کے بجائے نمازِ مغرب کا نام دینے کی سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ " فَقَالَ: تَقُولُ الْأَعْرَابُ هِيَ الْعِشَاءُ " ⦗٥٤٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیہاتی مغرب کی نماز کے نام پر غالب نہ آجائیں“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیہاتی اس کو (مغرب) عشاء کہتے ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْفِرْيَابِيُّ ثنا أَبُو مَسْعُودٍ، أنا عَبْدُ الصَّمَدِ، أنا أَبِي عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ فَإِنَّ الْأَعْرَابَ تُسَمِّيهَا عَتَمَةً " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ: حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ فِي صَلَاةِ عِشَاءِ الْآخِرَةِ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِقَالَ الشَّيْخُ: إِلَّا أَنَّ الَّذِينَ رَوَوْهُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَلَى اللَّفْظِ الْأَوَّلِ أَكْثَرُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیہاتی غالب نہ آجائیں تمہاری نماز کے نام پر، وہ اس کا نام عتمہ رکھتے ہیں۔“
(ب) شیخ ابوبکر اسماعیلی کہتے ہیں کہ ابومسعود کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ (حکم) عشاء آخرہ (یعنی عشاء) کی نماز کے بارے میں ہے، اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی عشاء آخرہ کے بارے میں منقول ہے۔
البتہ جن لوگوں نے اسے عبدالصمد سے پہلے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے وہ زیادہ ہیں۔
(ب) شیخ ابوبکر اسماعیلی کہتے ہیں کہ ابومسعود کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ (حکم) عشاء آخرہ (یعنی عشاء) کی نماز کے بارے میں ہے، اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی عشاء آخرہ کے بارے میں منقول ہے۔
البتہ جن لوگوں نے اسے عبدالصمد سے پہلے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے وہ زیادہ ہیں۔