کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ایامِ حیض میں زرد اور گدلے رنگ کا خون آنا حیض ہی شمار ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْبُوشَنْجِيُّ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ مَوْلَاةِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ النِّسَاءُ يَبْعَثْنَ إِلَى عَائِشَةَ ⦗٤٩٧⦘ بِالدُّرْجَةِ فِيهَا الْكُرْسُفُ فِيهِ الصُّفْرَةُ مِنْ دَمِ الْحَيْضِ فَتَقُولِ: لَا تَعْجَلْنَ حَتَّى تَرَيْنَ الْقِصَّةَ الْبَيْضَاءَ " تُرِيدُ بِذَلِكَ أَيِ الطُّهْرُ مِنَ الْحَيْضَةِ، قَالَ ابْنِ بُكَيْرٍ: الْكُرْسُفُ الْقُطْنُ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ باندی ہیں، فرماتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عورتیں میری طرف صندوقچی بھیجتی تھیں، اس میں روئی ہوتی تھی، جس میں حیض کے خون کی زردی ہوتی تھی تو میں کہتی کہ تم جلدی نہ کرو جب تک واضح سفیدی نہ دیکھ لو۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ عَنِ ابْنَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ نِسَاءً كُنَّ يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ لَيَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ فَكَانَتْ تَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِنَّ وَتَقُولُ: " مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا " وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَلَى وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت کی بیٹی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عورتیں آدھی رات کو چراغ منگواتی تھیں تاکہ وہ اپنے طہر کی طرف دیکھیں اور وہ ان پر عیب لگاتی تھیں اور کہتی تھیں: عورتیں یہ کیا کرتی ہیں (یعنی عورتوں کے اس کام کو اچھا نہ سمجھتی تھیں)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ خَلَفٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ثنا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَنْهَى النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ إِلَى أَنْفُسِهِنَّ لَيْلًا فِي الْحَيْضِ وَتَقُولُ: إِنَّهَا قَدْ تَكُونُ الصُّفْرَةُ وَالْكُدْرَةُ " وَقَدْ رُوِيَ عَلَى وَجْهٍ ثَالِثٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ عورتوں کو منع فرماتی تھیں کہ وہ رات کو اپنا حیض دیکھیں اور فرماتی تھیں کہ کبھی زردی ہوتی ہے اور کبھی مٹیالے رنگ کا پانی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ صَاحِبَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَمْرَةَ قَالَتْ: أَرْسَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَمْرَةَ كُرْسُفَةَ قُطْنٍ فِيهَا - أَظُنُّهُ أَرَادَ - الصُّفْرَةُ تَسْأَلُهَا هَلْ تَرَى إِذَا لَمْ تَرَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحَيْضَةِ إِلَّا هَذَا أَطَهُرَتْ؟ قَالَتْ: " لَا حَتَّى تَرَى الْبَيَاضَ خَالِصًا " وَقِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
فاطمہ بنت محمد رضی اللہ عنہا جو عمرہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھیں، فرماتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت نے عمرہ رضی اللہ عنہا کی طرف روئی کا پھنبا بھیجا، میرا گمان ہے اس نے زردی کا ارادہ کیا اور وہ ان سے پوچھ رہی تھی کہ جب عورت حیض میں صرف یہ زردی دیکھے تو کیا وہ پاک ہوگی؟ انہوں نے کہا: نہیں، جب تک خالص سفیدی دیکھ لے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ثنا زُهَيْرٌ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: كُنَّا فِي حِجْرِهَا مَعَ بَنَاتِ أَخِيهَا فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَطْهُرُ ثُمَّ تُصَلِّي ثُمَّ تَنْتَكِسُ بِالصُّفْرَةِ الْيَسِيرَةِ فَتَسْأَلُهَا فَتَقُولُ: " اعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ مَا رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ حَتَّى تَرَيْنَ الْبَيَاضَ خَالِصًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم ان کی گود میں ان کے بھتیجوں کے ساتھ تھیں، ہم میں سے کوئی پاک ہوتی، پھر نماز پڑھتی، پھر دوبارہ زرد خون بہانے لگتی، انہوں نے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: نماز سے الگ رہو جب تم یہ (زردی) دیکھو جب تک خالص سفیدی نہ دیکھ لو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا حَمَّادٌ ثنا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ التَّرِيئَةَ فَإِنَّهَا تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا حَيْضٌ " قَالَ: وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيَمُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ التَّرِيئَةَ فَلْتَنْظُرِ الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهِنَّ وَلَا تُصَلِّي فِيهِنَّ، الصَّوَابُ التَّرِيَّةُ وَهُوَ الشَّيْءُ الْخَفِيُّ الْيَسِيرُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب عورت ہلکی سی چیز دیکھے تو وہ نماز سے رک جائے گی کیونکہ وہ حیض ہے۔
(ب) سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عورت ہلکی سی چیز دیکھے تو وہ ان دنوں کا انتظار کرے جن میں وہ حیض گزارتی تھی اور صرف ان دنوں میں نماز نہ پڑھے۔
(ب) سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عورت ہلکی سی چیز دیکھے تو وہ ان دنوں کا انتظار کرے جن میں وہ حیض گزارتی تھی اور صرف ان دنوں میں نماز نہ پڑھے۔