کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مستحاضہ (بیماری کا خون آنے والی عورت) کا بیان جب وہ (خون کے درمیان) تمیز کر سکتی ہو
حدیث نمبر: 1546
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“
حدیث نمبر: 1547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ رَوَى الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَكَذَا رَوَاهُ فِي إِقْبَالِ الْحَيْضِ وَإِدْبَارِهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ وَجَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ⦗٤٨٢⦘ وَجَمَاعَةٌ كَبِيرَةٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا أَنَّ حَمَّادًا زَادَ فِيهِ الْوُضُوءَ وَابْنُ عُيَيْنَةَ زَادَ فِيهِ الِاغْتِسَالَ بِالشَّكِّ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ الْإِمَامُ عَنْ هِشَامٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام رحمہ اللہ سے پچھلی روایت کی طرح منقول ہے۔ (ب) ایک بہت بڑی جماعت نے ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے سوائے حماد رحمہ اللہ کے۔ اس میں وضو کے الفاظ زائد ہیں۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں انہوں نے شک کے ساتھ غسل کا اضافہ کیا ہے۔ (ج) ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”جب اس کی میعاد پوری ہو جائے تو اپنے آپ سے خون کو دھو اور نماز پڑھ۔“
حدیث نمبر: 1548
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ وَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي الدَّمَ عَنْكِ وَصَلِّي" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ فَخَالَفَهُمْ فِي مَتْنِهِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَا إِنَّ ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ قَدْرَ الْأَيَّامِ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ شَكَّ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، عرض کیا: میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز کو چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ رگ سے ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے آپ سے خون دھو اور نماز پڑھ۔“
(ب) اس روایت کے متن میں اختلاف ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو رگ ہے لیکن تو نماز اتنے دن چھوڑ دے جتنے دن اپنے حیض کے ایام میں چھوڑتی تھی، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ج) ابواسامہ والی روایت میں شک ہے۔
(ب) اس روایت کے متن میں اختلاف ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو رگ ہے لیکن تو نماز اتنے دن چھوڑ دے جتنے دن اپنے حیض کے ایام میں چھوڑتی تھی، پھر غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ج) ابواسامہ والی روایت میں شک ہے۔
حدیث نمبر: 1549
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ ثنا أَبُو بَكْرِ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٤٨٣⦘ مُحَمَّدِ بْنِ يَاسِينَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ الْكُوفِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح. قَالَ أَبُو بَكْرِ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَكِنْ دَعِي الصَّلَاةَ الْأَيَّامَ الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ فِيهَا، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي " أَوْ كَمَا قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ أَنَّ الْحَدِيثَيْنِ عَلَى لَفْظِ أَبِي أُسَامَةَ فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ غَيْرِهِ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ عَنْ هِشَامٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي رَوَاهُ الْجَمَاعَةُ فِي إِقْبَالِ الْحَيْضِ وَإِدْبَارِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ رگ سے ہے، حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور نماز پڑھ“ «أَوْ كَمَا قَالَ»
(ب) ابو اسامہ سے ان الفاظ میں روایت کیا گیا ہے، اسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، یعنی اپنے حیض کے آنے اور جانے کے دنوں میں۔
(ب) ابو اسامہ سے ان الفاظ میں روایت کیا گیا ہے، اسے ایک جماعت نے روایت کیا ہے، یعنی اپنے حیض کے آنے اور جانے کے دنوں میں۔
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا ابْنُ كَرَامَةَ ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحَيْضِ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " وَهَذَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا لِمُوَافَقَتِهِ رِوَايَةَ الْجَمَاعَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَاغْتَسِلِي " وَقَدْ قَالَهُ أَيْضًا ابْنُ عُيَيْنَةَ بِالشَّكِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام بن عروہ کی روایت میں ہے: کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے یہ رگ سے ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“
(ب) اس کا محفوظ ہونا اور جماعت کی روایت کے موافق ہونا زیادہ اولیٰ ہے مگر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو غسل کر۔“ (ج) ابن عیینہ نے شک کے ساتھ بیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
(ب) اس کا محفوظ ہونا اور جماعت کی روایت کے موافق ہونا زیادہ اولیٰ ہے مگر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو غسل کر۔“ (ج) ابن عیینہ نے شک کے ساتھ بیان کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1551
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَلْقَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، كَانَتْ تُسْتَحَاضُ ⦗٤٨٤⦘ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ دَمَ الْحَيْضَةِ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ وَإِذَا كَانَ الْآخَرَ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ" قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: كَانَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا بِهِ عَنْ عَائِشَةَ، ثُمَّ تَرَكَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا استحاضہ والی تھیں، ان سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، جب یہ ہو تو نماز سے رک جا اور جب دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ وہ رگ سے ہے۔“
حدیث نمبر: 1552
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ " قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ مِنْ كِتَابِهِ هَكَذَا، ثُمَّ حَدَّثَنَا بَعْدُ حِفْظًا قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ استحاضہ والی تھیں، نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے جو پہچانا جاتا ہے، جب یہ ہو تو نماز سے رک جا اور جب دوسرا ہو تو وضو کر اور نماز پڑھ، وہ رگ ہے۔“
حدیث نمبر: 1553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ مَكْحُولٌ: " النِّسَاءُ لَا يَخْفَى عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ أَنَّ دَمَهَا أَسْوَدُ غَلِيظٌ فَإِذَا ذَهَبَ ذَلِكَ وَصَارَتْ صُفْرَةً رُقَيْقَةً فَإِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ رُوِيَ مَعْنَى مَا قَالَ مَكْحُولٌ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرْفُوعًا بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عورتوں پر حیض پوشیدہ نہیں ہوتا، اس کا خون گاڑھا اور سخت سیاہ ہوتا ہے، جب یہ چلا جائے اور زرد پتلا ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، لہٰذا وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت میں ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1554
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا الْبَاغَنْدِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكِرْمَانِيُّ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنِ الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: " وَدَمُ الْحَيْضِ أَسْوَدُ خَاثِرٌ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ وَدَمُ الْمُسْتَحَاضَةِ أَصْفَرُ رَقِيقٌ فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتَحْتَشِ كُرْسُفًا فَإِنْ غَلَبَهَا فَلْتُعْلِهَا بِأُخْرَى فَإِنْ غَلَبَهَا فِي الصَّلَاةِ فَلَا تَقْطَعِ الصَّلَاةَ وَإِنْ قَطَرَ وَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا وَتَصُومُ وَتُصَلِّي عَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا مَجْهُولٌ وَالْعَلَاءُ هُوَ ابْنُ كَثِيرٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَمَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي أُمَامَةَ شَيْئًا وَاللهُ أَعْلَمُ أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ الْحَافِظِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حیض کا خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے اس پر سرخی آ جاتی ہے اور استحاضہ کا خون زرد پتلا ہوتا ہے، اگر وہ اس پر غالب آ جائے تو اس پر روئی رکھ لے اور اگر وہ اس پر بھی غالب آ جائے تو دوسری نئی روئی رکھ لے۔ اگر نماز میں غالب آ جائے تو وہ نماز نہ توڑے اگرچہ خون گرنے لگے اور اس کا خاوند اس کے پاس آئے (یعنی جماع کرے) اور وہ عورت روزے رکھے اور نماز پڑھے۔“