کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جمعہ کا ارادہ رکھنے والے کے لیے غسل مسنون ہونے کا بیان نہ کہ اس کے لیے جو اس کا ارادہ نہ رکھتا ہو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا الْغُسْلُ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ وَعَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَغْتَسِلُ فِي السَّفَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدِ اسْتَحَبَّ غَيْرُهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ مَرَّةً تَنْظِيفًا وَاحْتَجَّ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی جمعہ کو آنے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے۔“
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: غسل اس پر ہے جس پر جمعہ واجب ہے۔ انہی سے منقول ہے کہ وہ سفر میں جمعہ کے دن غسل نہیں کرتے تھے۔ (ج) ان کے علاوہ بعض کا خیال ہے کہ ہر ہفتے ایک بار صفائی کی غرض سے غسل کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1419
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي ⦗٤٤٥⦘ الْحَجَّاجِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقٌّ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ فَذَكَرَهُ وَهَذَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ أَيْضًا غُسْلَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر حق ہے کہ وہ ہر سات دن میں (کم از کم) ایک دفعہ غسل کرے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1420
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن حبان 1232»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى، ثنا وَهْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى" فَسَكَتَ وَقَالَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ" وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم سب امتوں کے آخر میں آئے ہیں اور قیامت کے دن سبقت لے جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم سے پہلے ہر ایک کو کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد دی گئی، یہی وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ نے ہم کو ہدایت دی۔ یہود کے لیے کل (ہفتہ) تھا اور نصاریٰ کے لیے پرسوں (اتوار) تھا۔“ آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور فرمایا: ”ہر سات دن میں ایک دفعہ ہر مسلمان پر غسل کرنا فرض ہے کہ وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1421
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 2298»