السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل على من أراد الجمعة دون من لم يردها باب: جمعہ کا ارادہ رکھنے والے کے لیے غسل مسنون ہونے کا بیان نہ کہ اس کے لیے جو اس کا ارادہ نہ رکھتا ہو
حدیث نمبر: 1419
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا الْغُسْلُ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ الْجُمُعَةُ وَعَنْهُ أَنَّهُ كَانَ لَا يَغْتَسِلُ فِي السَّفَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدِ اسْتَحَبَّ غَيْرُهُ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ مَرَّةً تَنْظِيفًا وَاحْتَجَّ بِمَا.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی جمعہ کو آنے کا ارادہ کرے تو وہ غسل کرے۔“
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: غسل اس پر ہے جس پر جمعہ واجب ہے۔ انہی سے منقول ہے کہ وہ سفر میں جمعہ کے دن غسل نہیں کرتے تھے۔ (ج) ان کے علاوہ بعض کا خیال ہے کہ ہر ہفتے ایک بار صفائی کی غرض سے غسل کرنا چاہیے۔