السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل على من أراد الجمعة دون من لم يردها باب: جمعہ کا ارادہ رکھنے والے کے لیے غسل مسنون ہونے کا بیان نہ کہ اس کے لیے جو اس کا ارادہ نہ رکھتا ہو
حدیث نمبر: 1421
فَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى، ثنا وَهْبٌ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِيَدِ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَهَدَانَا اللهُ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى" فَسَكَتَ وَقَالَ: " حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ يَوْمًا يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ" وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”ہم سب امتوں کے آخر میں آئے ہیں اور قیامت کے دن سبقت لے جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم سے پہلے ہر ایک کو کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد دی گئی، یہی وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ نے ہم کو ہدایت دی۔ یہود کے لیے کل (ہفتہ) تھا اور نصاریٰ کے لیے پرسوں (اتوار) تھا۔“ آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور فرمایا: ”ہر سات دن میں ایک دفعہ ہر مسلمان پر غسل کرنا فرض ہے کہ وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔“