کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: نبی ﷺ کا سفر اور حضر (اقامت) دونوں حالتوں میں موزوں پر مسح فرمانے کا بیان
حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ أنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةَ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ تَخَلَّفَ وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ أَتَانِي فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَتَوَضَّأَ وَذَلِكَ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا غَسَلَ وَجْهَهُ وَأَرَادَ غَسْلَ ذِرَاعَيْهِ ضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، راستے میں آپ ﷺ پیچھے رہ گئے اور میں بھی ڈول لے کر آپ کے پیچھے رہا، آپ ﷺ قضائے حاجت کے لیے الگ ہوئے، پھر میرے پاس آئے۔ میں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا اور صبح کی نماز کا وقت تھا۔ جب آپ ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا اور اپنے بازوؤں کو دھونے کا ارادہ کیا تو آپ کے جبے کی آستینیں تنگ ہو گئیں، آپ ﷺ پر شامی جبہ تھا، آپ نے جبے کے نیچے سے ہاتھ نکالے، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1298
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقُمْتُ أَسْكُبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْ إِدَاوَةٍ فِي غَزْوَةٍ تَبُوكَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ عَلَيْهِ كُمَّا الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلَ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ". ⦗٤١٣⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعْدٍ وَأَمَّا الْحَضَرُ فَفِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حاجت پوری کرنے کے لیے گئے، میں کھڑا ہوا، میں غزوہ تبوک میں ڈول سے آپ ﷺ پر پانی ڈالتا تھا (یعنی آپ ﷺ کی خدمت پر مامور تھا)۔ آپ ﷺ نے اپنا چہرہ دھویا اور اپنے بازو دھونے شروع کیے تو آپ ﷺ کے جبے کی آستین تنگ ہو گئی، آپ نے ان کو نیچے سے نکال کر دھویا اور موزوں پر مسح کیا۔ (حضر میں بھی اسی طرح ہے)۔
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ لوگوں کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے پاس پہنچے، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ بِالْمَدِينَةِ فَبَالَ قَائِمًا، ثُمَّ دَعَا بِطَهُورٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مدینہ میں قوم کی روڑی (کوڑا کرکٹ کے ڈھیر) کے پاس آئے، آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر پانی منگوایا، وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حدیث نمبر: 1301
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْوَافَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ خَرَجَ قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلَتُ بِلَالًا مَا صَنَعَ؟ قَالَ بِلَالٌ: ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: الْأَسْوَافُ حَائِطٌ بِالْمَدِينَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفِي حَدِيثِ بِلَالٍ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي الْحَضَرِ لِأَنَّ بِلَالًا حَمَلَ فِي الْحَضَرِ قَالَ الشَّيْخُ: وَحَدِيثُ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ فِي التَّوْقِيتِ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فِي الْحَضَرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باغ میں داخل ہوئے، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: آپ نے کیا کیا؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی ﷺ حاجت کے لیے گئے پھر وضو کیا اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسواف میں ایک دیوار تھی۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضر میں بھی مسح کیا؛ کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اسے حضر پر محمول کیا ہے۔ (د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث جو مدت کے متعلق ہے وہ حضر میں مسح کے جواز پر دلیل ہے۔
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسواف میں ایک دیوار تھی۔ (ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضر میں بھی مسح کیا؛ کیونکہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اسے حضر پر محمول کیا ہے۔ (د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی حدیث جو مدت کے متعلق ہے وہ حضر میں مسح کے جواز پر دلیل ہے۔
حدیث نمبر: 1302
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ، أَنَّهُ رَأَى أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابویعفور عبدی سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو عمرو بن حریث کے گھر میں دیکھا کہ انہوں نے پانی منگوایا، وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔